.

بن غازی حملے میں القاعدہ ملوث نہیں تھی:تحقیقاتی رپورٹ

امریکی سفارتی مشن پر اچانک حملے میں مقامی جنگجوؤں کا ہاتھ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ تنظیم گذشتہ سال لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں امریکی مشن پر حملے میں براہ راست ملوث نہیں تھی۔

یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہی ہے۔یہ رپورٹ اخبار کی ویب سائٹ پر اتوار کو پوسٹ کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق لیبیا میں متعین امریکی سفیر کرس اسٹیوینز اور تین دوسرے اہلکار 11 ستمبر 2012ء کو بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر مقامی جنگجوؤں کے حملے میں مارے گئے تھے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ القاعدہ یا کسی اور بین الاقوامی گروپ کے اس حملے میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔یہ رپورٹ حملے سے متعلق براہ راست معلومات رکھنے والے لیبی شہریوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارتی مشن پر حملے کی قیادت نیٹو کے لیبیا پر فضائی حملوں اور فوجی سازوسامان سے براہ راست فائدہ اٹھانے والے جنگجوؤں نے کی تھی۔حملے کا محرک امریکا میں منظرعام پر آنے والی اسلام مخالف ویڈیو بنی تھی۔

اس فلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔اس کے بعد یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ امریکی کمپاؤنڈ کے اندر محافظوں کی فائرنگ سے بعض مظاہرین مارے گئے تھے جس پر دوسرے مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے تھے۔

نیویارک ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ احمد ابو خطالہ نام کا ایک مقامی باغی لیڈر اس حملے کی منصوبہ بندی کا مرکزی مشتبہ کردار تھا۔

ابو خطالہ نے اخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ وہ امریکی مشن پر حملے کے وقت موجود تھے لیکن انھوں نے امریکی سفارتی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

''ابوخطالہ کی دہشت گرد گروپوں کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں تھی۔وہ اگرچہ حملے کے وقت ایک مرکزی کردار تھے لیکن یہ حملہ اچانک ہوا تھا''۔اخبار نے واقعے کے وقت موجود لیبی شہریوں کے حوالے سے لکھا ہے۔

امریکی حکام ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ بن غازی پر حملہ دہشت گردی کی کارروائی تھی کیونکہ ان کے بہ قول اس میں ملوث بعض افراد کا القاعدہ کے انتہا پسندوں سے تعلق تھا۔تاہم امریکی حکام نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ مشن پر حملہ امریکا میں بنی اسلام مخالف فلم ''مسلمانوں کی معصومیت''کے خلاف اشتعال کا نتیجہ تھا۔اس وقت دنیا بھر میں امریکا مخالف احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔

نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ سے امریکا میں ایک نیا تنازعہ جنم لے سکتا ہے کیونکہ اوباما انتظامیہ بن غازی میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں مختلف جواز پیش کرتی رہی ہے اور اس پر امریکی سفیر کے تحفظ میں ناکامی کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔