.

روس: ریلوے اسٹیشن پر خاتون خودکش بمبار کا حملہ، 18 ہلاک

اولمپک مقابلوں سے دو ہفتے قبل خونریز دھماکے سے روسی حکام چوکنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے ایک جنوبی شہر میں ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملے کے نتیجے میں کم سے کم 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ کارروائی ایک خاتون خودکش بمبار نے کی۔

خبر رساں ادارے "اے ایف پی" نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک خاتون خودکش حملہ آور نے روس کے جنوبی شہر ووَلگوگراڈ کے ٹرین اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں کی تعداد پچاس سے زائد ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ماسکو حکومت نے اس حملے کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے تفتیشی عمل شروع کر دیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق ایک خاتون نے یہ حملہ دوپہر کو اس وقت کیا، جب ٹرین اسٹیشن مسافروں سے بھرا ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ٹرین اسٹیشن کے مرکزی دروازے پر لگے ہوئے میٹل ڈیٹکٹر گیٹ پر جب اس خاتون کو تلاشی کے لیے روکا گیا تو اس نے دھماکا کر دیا۔ ٹرین اسٹیشن پر کام کرنے والی ایک خاتون اہلکار ولاتینی پیٹریشینکو نے ویسٹی 24 نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: ’’یہ ایک بہت زوردار دھماکا تھا۔ کچھ لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا جبکہ کچھ اس دھماکے کی شدت سے دور جا گرے۔ یہ ایک خوفناک منظر تھا۔‘‘

خبر رساں اداروں نے ووَلگوگراڈ سے موصولہ رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دھماکے سے ریلوے اسٹیشن کی اوپر کی دو منزلوں پر لگی شیشے کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور امدادی ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچنا شروع کر دیا۔

روس کی قومی انسداد دہشت گردی کمیٹی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایسے آثار ملے ہیں کہ یہ ایک خاتون خود کش حملہ آور کی کارروائی تھی۔ روسی تحقیقاتی کمیٹی کے ترجمان ولادیمیر مارکِن نے بتایا ہے کہ مزید حقائق جاننے کے لیے تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ اسی علاقے میں اکتوبر میں ایک خاتون خود کش بمبار نے حملہ کرتے ہوئے چھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اکیس اکتوبر کے اُس واقعے کو شمالی قفقاذ میں فعال اسلامی انتہا پسندوں کی کارروائیوں سے جوڑا گیا تھا۔ شمالی قفقاذ میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے خواہشمند شدت پسندوں کے سربراہ ڈوکو عمروف نے اپنے حامیوں سے کہہ رکھا ہے کہ وہ 2014ء سوچی اولمپک مقابلوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ققفاذ سے باہر بھی شہریوں کو نشانہ بنائیں۔

روس میں اولمپک مقابلوں کے انعقاد سے صرف چھ ہفتوں قبل ہونے والے اس تازہ حملے نے ماسکو حکومت کو ان کھیلوں کے کامیاب انعقاد کے حوالے سے چوکنا کر دیا ہے۔ کریملن نے بتایا ہے کہ اس حملے کے بارے میں صدر ولادیمیر پوٹن کو فوری طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا۔ پوٹن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے بقول: ’’صدر پوٹن کو ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جا چکی ہے۔ جیسے جیسے مزید تفصیلات موصول ہو رہی ہیں، ویسے ویسے صدر پوٹن کو معلومات مہیا کی جا رہی ہیں۔‘‘

ادھر روسی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کے مرکزی ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔