.

سعودی مذہبی پولیس کا نئے سال کی تقریبات منانے پر انتباہ

محکمے کا علماء کمیٹی کے نئے سال کی تقریبات کے خلاف فتویٰ کی بنیاد پر حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر المعروف مذہبی پولیس نے شہریوں کو نئے سال کی تقریبات منانے پر انتباہ کیا ہے۔

سعودی روزنامے عکاظ میں اتوار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر نے نئے سال کی تقریبات پر پابندی سے متعلق علماء کے فتوے کی بنیاد پر یہ انتباہ جاری کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں دوسری خلیجی ریاستوں کے برعکس مسلمانوں کے ہجری (قمری) کیلنڈر کی پیروی کی جاتی ہے جبکہ باقی خلیجی ممالک میں گریگورین (عیسوی) کیلنڈر رائج ہے۔

مذہبی پولیس سعودی عرب میں دوسرے ممالک کی طرح نئے سال کے موقع پر ہلڑبازی اور اخلاق باختہ محافل واجتماعات کی اجازت نہیں دیتی اور وہ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پھولوں اور دوسرے تحائف کی فروخت پر بھی پابندی عاید کردیتی ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیشن سعودی معاشرے میں شرعی قوانین کی پاسداری کا ذمے دار ہے،اس کے اہلکار عوامی مقامات پر مردوں کے غیر عورتوں کے ساتھ اختلاط کو بزور روکتے ہیں اور خواتین کو عوامی مقامات میں ننگے سر گھومنے پھرنے سے بھی منع کرتے ہیں۔نمازوں کے اوقات میں دکانوں کو بند کرانے کا ذمے دار بھی یہی محکمہ ہے۔

تاہم سعودی مذہبی پولیس پر اختیارات سے تجاوز کے بھی الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔لیکن جنوری میں عبداللطیف بن عبدالعزیز آل شیخ کے مذہبی پولیس کے سربراہ کے طور پر تقرر کے بعد اس کے اہلکار زیادہ محتاط ہوگئے ہیں اور انھوں نے غیر نشان دار کاروں کے استعمال پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔