ترکی:حکومت مخالف مظاہرے میں جوتا ڈبا لہرانے پر خاتون گرفتار

پنشنر خاتون کی مقدمے کے ٹرائل تک رہائی ،حزب اختلاف کے رہ نما کا اظہار ہمدردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی میں بدعنوانی کے بڑے اسکینڈل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران جوتے کے ڈبا لہرانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جوتے کا ڈبا ترکی میں حال ہی میں منظرعام پر آنے والے کرپشن اسکینڈل کی علامت بن کر ابھرا ہے۔پولیس نے اسی ماہ اس کرپشن اسکینڈل کے ایک بڑے کردار اور سرکاری ملکیتی حلق بنک کے چیف ایگزیکٹو کے گھر سے جوتے کے ڈبو میں رکھے گئے پینتالیس لاکھ ڈالرز کے کرنسی نوٹ برآمد کیے تھے۔

پنشنر نورحان گل نے مغربی شہر اکیشر میں اتوار کو اس وقت جوتے کا خالی ڈبا لہرایا تھا جب وزیراعظم رجب طیب ایردوآن اپنی جماعت اے کے کی ریلی سے خطاب کررہے تھے۔اس پر اس خاتون کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ترک روزنامے حریت نے نورحان گل کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''میں جوتے کا ایک خالی ڈبا لے گئی تھی اور اس کو ایک یا دو منٹ کے لیے لہرا دیا بس پھر کیا تھا۔پولیس اور سکیورٹی محافظوں نے میرے گھر پر دستک دی اور پوچھا کہ کس نے جوتے کا ڈبا لہرایا تھا''۔

اس کے بعد اس خاتون کو پکڑلیا گیا اور تفتیش کی گئی اور پھر مقدمے کے ٹرائل تک چھوڑ دیا گیا ہے۔ترکی کی حزب اختلاف کی بڑی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کے لیڈر کمال قلیچ داراوغلو نے گل کو فون کیا ہے اور انھیں اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہرشہری کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔

واضح رہے کہ رشوت اور بدعنوانی کے اس بڑے اسکینڈل کی تحقیقات نے ترکی کی سیاست میں ایک بھونچال برپا کردیا ہے اوراس کی حکمراں اشرافیہ کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس کے منظرعام پر آنے کے بعد سے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان سے مستعفی ہونے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں