انصارالشریعہ تیونس کے لیڈر کی لیبیا میں گرفتاری

امریکی میرینز اور لیبی سکیورٹی فورسز کی مصراتہ میں مشترکہ کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکا اور لیبیا کی فورسز نے ایک مشترکہ کارروائی میں تیونس کے اسلامی جنگجو گروپ انصارالشریعہ کے لیڈر سیف اللہ بن حسین کو گرفتار کر لیا ہے۔

تیونس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تیپ نے ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ انھیں لیبیا کے شہر مصراتہ سے امریکی میرینز اور مقامی سکیورٹی فورسز نے پکڑا ہے۔

سیف اللہ بن حسین اپنی کنیت ابوعیاض سے زیادہ معروف ہیں اور وہ ماضی میں افغانستان میں امریکا کی اتحادی فوجوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں۔انھوں نے القاعدہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا تھا۔ان پر ستمبر 2012ء میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی شہ دینے کا بھی الزام ہے۔اس حملے میں امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بن غازی اور دوسرے شہروں میں متعدد کار بم دھماکے ہوچکے ہیں اور فوج اور پولیس کے افسروں کو قتل کیا جارہا ہے۔القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم انصارالشریعہ پر ہی ان بم دھماکوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں