فارمولا ون کے لینجڈ شُوماکر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا

فرانس میں اسکیئنگ کے وقت گر کر شوماکر کا سر پتھر سے ٹکرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فارمولا وَن کی تاریخ کے عظیم چیمپئن مائیکل شُوماخر کی حالت بدستور نازک ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی جان خطرے میں ہے اور وہ زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ شُوماکر اسکیئنگ کرتے ہوئے ايک حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔

جرمن لیجنڈ مائیکل شوماکر اتوار کو اپنے چودہ سالہ بیٹے کے ساتھ فرانس کے تفریحی مقام میریبیل میں اسکیئنگ کر رہے تھے کہ وہ گِر پڑے اور ان کا سر ایک پتھر سے جا ٹکرایا۔ پتھر سے ٹکراٹے وقت ان کی سپیڈ اسی کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ بعد ازاں انہیں ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کے ساتھ حادثے کی خبر پھیلنے کے بعد سے فارمولا وَن کمیونٹی سَکتے میں ہے۔ ریسنگ اسٹارز، جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور شُوماکر کے پرستاروں سمیت سبھی ان کی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔

وہ فرانس کے جنوب مشرقی شہر گرونوبل کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں ڈاکٹروں نے پیر کو بتایا کہ وہ اپنی زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہسپتال کے شعبہ انتہائی نگہداشت کے سربراہ ژاں فرانسوا پایاں نے صحافیوں کو بتایا: ’’ان کی حالت نازک ہے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی جان خطرے میں ہے۔‘‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس وقت مائیکل شوماکر کی زندگی کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ نیورولوجسٹ ژاں لُوک ٹرویل کا کہنا ہے: ’’اتنے شدید زخم لگے ہوں تو عام طور پر کوئی رائے قائم کرنے میں 48 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔‘‘

پایاں نے بتایا کہ انہیں مصنوعی طریقے سے کوما میں رکھا گیا ہے تاکہ سر میں لگی چوٹ کا دماغ پر زیادہ اثر نہ پڑے۔ حادثے کے بعد پہلے تو ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی گئی تھی جو بتدریج بگڑتی گئی۔ اتوار کو رات گئے ہسپتال نے ان کی حالت کو نازک قرار دے دیا تھا۔ ان کا ایک آپریشن بھی کیا گیا۔

آپریشن کرنے والے ڈاکٹر اسٹیفن شابارڈ نے بتایا کہ شُوماکر کو بہت مضطرب حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا، ان کے بازو اور ٹانگیں کانپ رہیں تھی اور وہ سوالوں کے جواب دینے کے قابل نہیں تھے۔

شابارڈ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ان کی حالت تیزی سے بگڑ گئی اور وہ کوما میں چلے گئے۔ پایاں نے بتایا کہ شُوماکر کا فوری طور پر آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مزید آپریشن کی توقع نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شُوماکر نے ہیلمٹ نہ پہن رکھا ہوتا تو وہ زندہ نہ بچتے۔ شُوماکر تین جنوری کو 45 برس کے ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں