موریتانیہ میں غلامی ٹرائبیونل کے قیام کا اعلان

غلاموں کی تجارت میں ملوث افراد کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسلم افریقی ملک موریتانیہ نے غلاموں کی تجارت میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے ایک خصوصی ٹرائبیونل کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

موریتانیہ کی اطلاعات ایجنسی نے منگل کو بتایا ہے کہ صدر محمد ولد عبدالعزیز کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیٹی نے سوموار کو اپنے اجلاس میں غلامی سے متعلق جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ موریتانیہ میں دنیا کے دوسرے ممالک سے سب سے بعد میں 1981ء میں غلامی کا خاتمہ ہوا تھا۔2012ء تک غلامی کی تجارت اور عمل سرکاری طور پر قابل سزا جرم تھا۔اس کے الزام میں قصوروار قراردیے گئے افراد کو دس سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

موریتانیہ میں جبری مشقت خاص طور پر ایک حساس معاملہ ہے اور اس ملک میں غلامی مخالف خیراتی ادارے اس لعنت کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ فعال ہیں۔نواکشوط کی ایک عدالت نے نومبر 2011ء میں غلامی کے الزام میں گرفتار افراد کو قصور وار قرار دیا تھا اور ملک میں یہ پہلا مقدمہ تھا جس میں غلاموں کی تجارت میں ملوث افراد کو مجرم قراردیا گیا تھا۔اس کے علاوہ اور بھی غلامی سے متعلق بہت سے مقدمات عدالتوں میں سماعت کے منتظر ہیں۔

ماضی میں اس ملک میں غلاموں کی تجارت میں ملوث افراد کے خلاف عام فوجداری عدالتوں میں مقدمات چلائے جاتے رہے ہیں۔لیکن موریتانیہ کی حکومت غلاموں کی تجارت کے کاروبار کی وسعت کا درست اندازہ کرنے میں ناکام رہی ہے اور سرکاری سطح پر بھی غلاموں کے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں