.

جمہوریہ چیک میں متعین فلسطینی سفیر دھماکے میں جاں بحق

دارالحکومت پراگ میں فلسطینی سفیر کی قیام گاہ پر پراسرار دھماکا،تحقیقات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں متعین فلسطینی سفیر جمال الجمال اپنے اپارٹمنٹ میں دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

پراگ پولیس کی ترجمان آندریا زولووا نے ایمرجنسی سروس کے حوالے سے فلسطینی سفیر کی موت کی تصدیق کردی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ دھماکا کسی حملے کا نتیجہ نہیں تھا۔

چھپن سالہ مقتول جمال الجمال کو اکتوبر 2013ء میں پراگ میں فلسطینی سفیر مقرر کیا گیا تھا اور وہ حال ہی میں اس شہر کے شمالی نواحی علاقے میں اپنی نئی قیام گاہ میں منتقل ہوئے تھے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کی صبح دھماکا اس وقت ہوا تھا جب سفیر جمال ایک پرانی سیف کو کھول رہے تھے۔یہ سیف فلسطینی سفارت خانے کی سابقہ عمارت سے اس نئی جگہ پر منتقل کی گئی تھی۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ''سیف کو کھولنے کے چند منٹ کے بعد دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں فلسطینی سفیر شدید زخمی ہوگئے۔انھیں فوری طور پر پراگ کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے''۔

جموریہ چیک کی ایک نیوزسائٹ نے پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ دھماکا ممکنہ طور خطرناک مواد کے ساتھ بے احتیاطی سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں ہوا ہے۔

فلسطینی سفارت خانے کے ترجمان نبیل الفحل نے جمہوریہ چیک کے ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کے وقت سفیر کا تمام خاندان اپنی قیام گاہ پر موجود تھا۔پراگ کی ایمرجنسی سروسز کی ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متاثر ہونے والی ایک باون سالہ خاتون کو ایک اور اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

پراگ پولیس دھماکے کی وجوہ کا پتا چلانے کے لیے واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔فلسطینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ جمعرات کو اعلیٰ سطح کا ایک وفد پراگ بھیجے گی جو چیک حکام سے اس واقعے کے سلسلے میں بات چیت کرے گا اور اس کی تحقیقات کے ضمن میں پولیس سے مکمل تعاون کرے گا۔