.

سعودی عرب میں کنوئیں میں گرے افراد کو نکالنے والی مشین تیار

جو کام ایک فرم نہ کرسکی وہ تنہا نوجوان نے کر دکھایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سعودی نوجوان نے کنوؤں میں گرے افراد کو نکالنے میں مدد دینے والا ایک منفرد آلہ تیار کیا ہے۔ آلے کی تیاری کا تخیل شہزادہ سلطان ملٹری میڈیکل سٹی کے طالب علم عشوان الدوسری کے ذہن میں اس وقت پیدا ہوا جب تبوک میں لما الروقی نامی بچی ایک کنوئیں میں گر کر جاں بحق ہوگئی تھی۔ اس حادثے نے شہریوں کے تحفظ کی ضرورت کے پیش نظر الدوسری کو ایک ایسا آلہ تیار کرنے پر مجبور کیا جس کے ذریعے متاثرہ افراد اور کنوئیں میں گرنے والوں کی مدد کی جا سکے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عشوان الدوسری کی تیارہ کردہ مشین کنوئیں میں اتارنے کے بعد کمپیوٹر کے ذریعے نہ صرف اسے کنٹرول کیا جا سکے گا بلکہ کنوئیں کے اندر کے مناظر کمپیوٹر سکرین پر دیکھے بھی جا سکیں گے۔

الدوسری کا کہنا ہے کہ تبوک کے ایک کنوئیں میں معصوم بچی کے گرنے کے واقعے نے اسے دکھی کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ شہریوں کے بچاؤ کے لیے کچھ کرنے پر بھی اکسایا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ کنوئیں میں گرے افراد کی جانیں بچانے یا وفات پانے والوں کو نکالنے کے لیے وقت اور پیسہ صرف کرنےکے ساتھ اچھی خاصی مشکل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ کیوں نہ ایک ایسا آلہ تیار کیا جائے جو حادثات کے شکار افراد کی زندگی بچانے کے لیے کم خرچ بالانشین کا مصداق بھی ثابت ہو۔ اسی تخیل کو عملی جامہ پہناتے ہوئے میں نے"ایس آر" کے نام سے ایک آلہ تیار کیا ہے۔

عشوان نے بتایا کہ دو ماہ پیشتر جب اس کی ملاقات شہری دفاع کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سلیمان عمرو سے ہوئی تو میں نے انہیں اس نئے آلے پرہونے والے کام سے آگاہ کیا۔ جنرل عمرو نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے اپنے مشن کو مکمل کرنے کے لیے ضروری معاونت بھی فراہم کی۔

عشوان کا کہنا تھا جب مجھے تبوک میں ننھی لما الرواقی کے کنوئیں میں گرکر مارے جانے اور اس کے لواحقین کی پریشانی کا علم ہوا۔ تو میں نے سوچا کہ کیا کسی نے متاثرین کی مدد نہیں کی ہوگی؟ مجھے پتہ چلا کہ کنوئیں میں گرنے والے افراد کو بچانے میں مدد دینے والی ایک بڑی کمپنی نے بھی لما کی میت نکالنے میں معذرت کرلی ہے۔ مجھے اور دکھ ہوا لیکن میں نے تہیہ کرلیا کہ جو کام ایک فرم نہیں کرسکی وہ میں کرکے دکھاؤں گا۔

سعودی نوجوان کا کہنا تھا کہ اس کا تیار کردہ آلہ نہ صرف کنوئیں میں گرے افراد کو نکالنے میں مدد دے گا بلکہ پائپ اور سیوریج لائنوں میں پھنسےافراد کو نکالنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

آلے کو آپریٹ کرنے کے حوالے سے عشوان کا کہنا تھا کہ میری تیار کردہ مشین متعدد حصوںپر مشتمل ہے۔ جس میں ایک کمپیوٹرایک "ربوٹ" گاڑی مرکزی حصے ہیں۔ کنوئیں میں اتاری جانے والی چار پہیو والی ربوٹ مشین کو کمیپوٹر کے ساتھ ایک کیبل کے ذریعے مربوط کیا جائے گا اور اسے کمپیوٹر کے ذریعے ہی آپریٹ کیا جا سکے گا۔ یہ مشین متاثر شخص تک پہنچ کر کیمرے کی مدد سے اس کی نشاندہی کرے گی، جس کے بعد اسی مشین سے منسلک ایک "ریسکیو ٹوکری" کے ذریعے متاثرہ فرد کو کر باہر نکالا جائے گا۔ مشین کو حرکت دینے اور متاثرہ شخص کو نکالنے کے لیے تھرما سینسر اور ریمورٹ کنٹرول استعمال کیے جائیں گے۔ ربورٹ مشین میں جدید ترین کیمرے، تصاویر ارسال کرنے والے آلات، آکسیجن اور روشنی کے لیے لائٹس کا انتظام بھی انتظام کیا گیا ہے۔