.

صومالی دارلحکومت موغادیشو دھماکوں سے لرز اٹھا

دھماکے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقی افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں یکے بعد دیگرے دو کار بم دھماکوں سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ کار بم دھماکے اقوام متحدہ کی عمارت کے نزدیک ہوٹل جزیرہ کے پاس کیے گئے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ یہ کار بم دھماکے القاعدہ سے وابستہ عسکری گروپ الشباب نے کیے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ابھی تک کسی عسکری گروپ نے دونوں کار بم دھماکے کرنے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم سکیورٹی اداروں فوری طور پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس افسر محی الدین احمد کا کہنا ہے کہ'' یہ خود کش حملہ لگتا ہے۔''

پولیس ذرائع کے مطابق ایک کار نے جزیرہ ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا جس سے زور دار دھماکہ ہوا اور لوگ ہلاک و زخمی ہو گئے۔ پولیس افسر محی الدین کے مطابق وہ اس دھماکے حتمی نقصان کے بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ''البتہ ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ پہلے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسرا کار بم دھماکہ اس وقت کیا گیا جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار زخمیوں کوہسپتال بھجوا رہے تھے کہ اچانک ایک اور کار نے آ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ایک پولیس افسر محمد وارسیم کا کہنا ہے کہ اس نے موقع پر آٹھ لاشیں گنی ہیں۔

واضح رہے بیین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک قائم جزیرہ ہوٹل غیر ملکی مہمانوں، سیاستدانوں اور اعلی حکام کی آمدورفت کے حوالے سے اہم ترین ہوٹل ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک عمارت بھی اس کے قریب ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یکے بعد دیگرے ہونے والے دو کار بم دھماکوں کے ساتھ ہی سکیورٹی اہکاروں اور مسلح بندوق برادروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ دھماکوں اور ان کے بعد شدید فائرنگ کے انداز سے سکیورٹی اہلکار غیر رسمی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کارروائی اسی انداز کی جو الشباب کا طریقہ ہے۔