.

عدن:القاعدہ کے حملے میں یمنی انٹیلی جنس افسر ہلاک

کار میں سوار مسلح افراد فوجی کرنل پر فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہر عدن میں القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں نے ایک انٹیلی جنس افسر کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔

ایک یمنی عہدے دار نے بتایا ہے کہ جمعرات کو کرنل مروان المقبلی پر عدن کے علاقے قلوا میں ان کے گھر کے باہر ایک کار میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ کی ہے۔اس وقت وہ اپنے گھر سے باہر جارہے تھے۔کار میں القاعدہ کے مشتبہ مسلح جنگجو سوار تھے اور وہ فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

کرنل مروان کو دوگولیاں لگی تھیں،انھیں اسپتال منتقل کیا جارہا تھا لیکن وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی تنظیم کو یمن میں سکیورٹی اہلکاروں پر اس طرح کے حملوں کا مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔

تاہم یمنی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار اس جہادی گروپ نے اس طرح کے حملوں کی کم ہی ذمے داری قبول کی ہے۔البتہ القاعدہ کی یمنی شاخ نے دارالحکومت صنعا میں 5 دسمبر کو وزارت دفاع کی عمارت پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں 56 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لیکن یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ القاعدہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے یمنی وزارت دفاع کے زیراہتمام اسپتال میں اس خودکش بم دھماکے پر معذرت کی تھی اور بم دھماکے کے مہلوکین کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کی پیش کش کی تھی۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے عسکری کمانڈر قاسم الریمی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ''ہم اس طرح لڑتے ہیں اور نہ ہم نے لوگوں سے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا اور نہ یہ ہماری حکمت عملی ہے''۔انھوں نے کہا کہ جنگجوؤں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اسپتال یا نزدیک واقع مسجد کی جگہ کو نشانہ نہ بنائیں۔انھوں نے کہا کہ ان کا جہادی گروپ اسپتال پر حملے کی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور اس حملے کی مکمل ذمے داری قبول کرتا ہے۔یہ پہلا موقع تھا کہ القاعدہ نے کسی خودکش بم حملے پر متاثرہ خاندانوں سے معذرت کی اور انھیں مقتولین کا خوں بہا دینے کی بھی پیش کش کی تھی۔