.

مراکش میں شام کے لیے جنگجو بھرتی کرنے والا گروہ گرفتار

جنگجو ترکی سے اسملگروں کے ذریعے شام بھجوائے جانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک مراکش کے حکام نے شام میں لڑائی کے لیے جنگجو بھرتی کرنے اور انہیں شام بھجوانے کے الزام میں ملوث ایک گروہ کا سراغ لگانے کے بعد ڈیڑھ درجن مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

رباط میں "العربیہ" کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق پولیس نے پچیس دسمبر کو ایک کارروائی میں شام کے لیے دہشت گرد تیار کرنے والے ایک گروہ کا سراغ لگایا تھا، جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں چھاپوں کے دوران کم سے کم اٹھارہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں پتہ چلا ہے کہ مراکشی حکام نے اٹھارہ افراد کو حراست میں لیا ہے، جو شام میں لڑائی میں شریک رہ چکے ہیں۔ ملزمان نے بتایا ہے کہ وہ ترکی کی سر زمین استعمال کرتے ہوئے اسملگروں کی مدد سے شام میں داخل ہوئے تھے۔ جہاں انہوں نے ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال کرنے کی بھی تربیت حاصل کی تھی۔

زیرحراست ایک ملزم نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلنے والے روایتی بم بنانے اور مراکش میں دھماکوں کی منصوبہ بندی کا بھی اعتراف کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزمان کے گھروں میں چھاپوں کے دوران تلواریں، چھریاں، بم، گیس ماسک اور روایتی ہتھیار تیار کرنے کے طریقوں پر مشتمل لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔

حراست میں لیے گئے تمام ملزمان کا تعلق مغربی اور وسطی مراکش کے شہروں سیدی سلیمان ، قلنیطرہ، فاس، مکناس اور شمالی شہروں المضیق، طنجہ اور دارالبیضاء سے ہے۔