.

ایرانی دوشیزہ کی موت سات امریکیوں کی زندگی بچا گئی

متوفیہ کے اعضاء امریکی مریضوں میں عطیہ کر دیے گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں اعلی تعلیم کے حصول کے لیے آئی ایک ایرانی دوشیزہ مبینہ طور پر شوہر کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی لیکن اس کی المناک موت کئی امریکیوں کے لیے زندگی بچانے کا معجزہ ثابت ہوئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 27 سالہ ایرانی ساناز ناظمی ایک سال قبل اپنے تُرک شوہر نیما ناصری کے ہمراہ امریکی ریاست مشی گن میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پہنچی تھی۔ وہ امریکا میں انجینیئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کا خواب لے کر آئی تھی لیکن شوہر کے مظالم کے باعث جان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

نو دسمبر کوامریکی ٹی وی CBC news نے ساناز نظامی کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی۔ فوٹیج میں مشی گن کے ایک اسپتال میں نظامی کو اسٹریچر پر لے جاتے دیکھا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے نظامی کو طبی طور پر مردہ قرار دے دیا تھا۔ تاہم اس کے بعض اعضاء جن میں دل، جگر، معدہ، چھوٹی آنت، گردے اور پھیھڑے سلامت تھے۔

ساناز نظامی کے ایران میں موجود خاندان کو اس کے ساتھ پیش آئے واقعے کا پتہ چلا مگر وہ ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتے تھے۔ تاہم مشی گن کے اسپتال کے عملے اور نرسوں نے نظامی کی جان بچانے کی مقدور بھرکوشش کی لیکن وہ تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔

امریکی ڈاکٹروں کی جانب سے جب ساناز نظامی کو باضابطہ طورپر مردہ قرار دیا گیا تو ایران میں موجود اس کے اہل خانہ نے نظامی کے اعضاء مریضوں میں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ساناز کا دل، جگر، گردے، پھیپھڑے، لبلبہ اور چھوٹی آنت امریکی مریضوں میں عطیہ کر دیے گئے، جس کے باعث ان کی زندگی بچ گئی۔

متوفیہ کی ہمیشرہ سارہ نظامی نے تہران سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پورے خاندان کو سانازنظامی کی المناک اور ناگہانی موت پر گہرا دکھ ہے لیکن انہیں خوشی ہے کہ ساناز مرنے کے بعد بھی لوگوں کے کام آئی ہے۔ ہمارے خاندان نے متوفیہ کے اعضاء امریکا ہی میں مریضوں میں عطیہ کردیے ہیں، جس سے کئی امریکیوں کی جانیں بچ گئی ہیں۔ یوں ہمیں ساناز کی موت پر دکھ کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ نے سات امریکیوں کی زندگی بچانے کے لیے معجزاتی طور پر ساناز کو امریکا پہنچایا تھا۔

یاد رہے کہ ساناز نظامی کی گذشتہ برس ایک ترک نوجوان نیما ناصری سے انٹرنیٹ کے ذریعے دوستی ہوئی جو بالآخر شادی پر منتج ہوئی تھی۔ دونوں میاں بیوی کچھ عرصے تک ہنسی خوشی زندگی گذارتے رہے۔ دونوں امریکا میں اعلٰی تعلیم کے حصول کے لیے گئے تھے۔ لیکن دونوں کے درمیان محبت کا رشتہ دیرپا ثابت نہ ہوا، بالآخر دونوں میں جھگڑا ہوا، شوہر نے مبینہ طور پراس پر بہیمانہ تشدد کیا۔ جس کے بعد اسے موت وحیات کی کشمکش میں اسپتال لے جایا گیا۔ وہ چند دن اسپتال میں زیرعلاج رہی مگر جاں بر نہ ہوسکی۔ امریکی پولیس ساناز نظامی کے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔