.

ترک فوج نے مقدمہ بغاوت میں حکومت کو چیلنج کر دیا

ایردوآن کی مشکلات بڑھ گئیں، فوج کی پراسیکیوٹر کے نام درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طویل عرصہ تک ترکی کے سیاہ و سفید کی ذم دار رہنے والی ترک مسلح افواج نے اپنی حیثیت پر حرف آتے دیکھ کر انگڑائی لینے کی کوشش کی ہے۔ ترک فوج نے تقریبا 300 سابق اور حاضر سروس [اب سزا یافتہ] افسران کی مقدمہ بغاوت میں سزاوں کیخلاف مقدمے کے از سر نو ٹرائل کی درخواست دائر کر دی ہے۔

یہ درخواست فوج کی طرف سے ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب طیب ایردوآن کی حکومت کرپشن کے مبینہ الزامات کی زد میں ہے۔ تین وزراء اور بعض ارکان پارلیمنٹ استعفے دے کر الگ ہو گئے ہیں جبکہ پراسکیوٹر حکومت کی مبینہ کرپشن کے خلاف جارحانہ موڈ میں ہے۔

ترک فوج کی جانب سے یہ از سر نو مقدمے کا ٹرائل کرنے کی درخواست بھی عملا حکومت کے سامنے کھڑے پراسیکیوٹر کو دیتے ہوئے فوج نے باضابطہ طور پر فوجی افسران اور اپنے سابق افسران کے خلاف حکومت کے جیتے ہوئے مقدمہ بغاوت اور اس کے نتیجے میں فوجی افسران کو دی گئی سزاوں کو چیلنج کر دیا ہے۔ اگرچہ چند روز قبل فوج نے موجودہ مشکل صورتحال کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے حکومت کو مکمل وفاداری کا یقین دلایا تھا۔

ترکی کے ممتاز اخبار "حریت" کے مطابق فوج نے چیف پراسیکیوٹر کے سامنے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ فوج سے متعلقہ افسران کو سزا کمزور شہادتوں پر اور بد نیتی کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ اس لئے ان سزاوں کو واپس لیا جائے۔ فوج کے ترجمان نے فوج کے اس موقف کی تصدیق کرتے درخواست دائر کرنے کو بھی تسلیم کیا ہے تاہم مزید کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔

دوسری جانب فوج کے افسروں کے خلاف مقدمے میں وکیل صفائی رہنے والے ہالوک پیکسن کا کہنا ہے کہ مقدمہ کا از سر نو ٹرائل یقینی ہے۔ واضح رہے 300 ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجیوں کو عدالت نے سزا 2012 میں سنائی تھی۔

اس مقدمہ بغاوت کے نئے سرے سے ٹرائل ہونے سے ترکی میں سول کی حکومت میں بالا دستی کی حالیہ برسوں کوششوں کا نتیجہ واپس ہو سکتا ہے اور ایک مرتبہ پھر ترکی فوجی بالا دستی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ جیسا کہ مصر میں امکان پیدا ہو چکا ہے۔