.

امریکا میں قید سعودی شہری کی ریاض منتقلی کی درخواست مسترد

کسی قیدی کی دوسرے ملک منتقلی کا اختیار نہیں:عدالت کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست کولو راڈو کی ایک عدالت نے زیر حراست سعودی شہری حمیدان الترکی کو قید کی بقیہ مدت اپنے وطن [سعودی عرب] میں پوری کرنے سےمتعلق درخواست مسترد کر دی ہے۔ امریکی عدالت نے اسیر الترکی کے وکیل کو بتایا کہ ملزم کو اس کے ملک میں بھجوانے سے متعلق ان کے پاس اختیار نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حمیدان الترکی کی امریکا سے سعودی عرب منتقلی سے متعلق درخواست دو ماہ قبل دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے آغاز میں اس پرغور کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم اب عدالت کی جانب سے درخواست پر عمل درآمد سے معذرت کی گئی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عدالت نے درخواست پرعمل درآمد کیونکر نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی جج نے الترکی کی منتقلی کی درخواست پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کے پاس کسی ملزم کو اس کے ملک منتقلی کا اختیار نہیں ہے۔ زیر حراست سعودی شہری حمیدان الترکی کے صاحبزادے ترکی الترکی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ "ٹیوٹر" پر بتایا کہ ان کے والد کے وکلاء نے بتایا کہ امریکا کی ایک ماتحت عدالت نے ان کے مؤکل کو رہا کرنے اور اس کے ملک بھجوانے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ الترکی کا کہنا تھا کہ امریکی جج کے ریمارکس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ عدالت کے پاس ریاستی قانون کے تحت کسی قیدی کو دوسرے ملک بھجوانے کا اختیار نہیں ہے۔

خیال رہے کہ حمیدان الترکی کو سنہ 2006ء میں امریکی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ اس پر ایک گھریلو ملازمہ پرتشدد کرنے، اُسے گھر میں نظر بند رکھنے، چھٹیاں نہ دینے اور اس کے واجبات ادا نہ کرنے سمیت کئی دوسرے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ انہی الزامات کی پاداش میں ریاست کولو راڈو کی عدالت نے مسٹر الترکی کو 28 سال قید کی سزا کا حکم دیا تھا۔ الترکی کے وکلاء نے ماتحت عدالت کا فیصلہ امریکی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے چار سال قبل اپنے تفصیلی فیصلے میں الترکی کی سزا 28 سے کم کرکے 20 سال کر دی تھی۔

مبصرین کے خیال میں امریکا کی مختلف ریاستوں کے ہاں دوسرے ملکوں کے قیدیوں کی واپسی یا قیدیوں کے تبادلے سے متعلق الگ الگ قوانین موجود ہیں۔ تاہم دوسرے ملک کے کسی قیدی کی واپسی کا فیصلہ عدالتوں کے پاس نہیں بلکہ ریاستیں یا مرکزی حکومت ہی یہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہیں۔ سعودی عرب اور امریکی ریاست کولوراڈو میں قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے، جس کے باعث الترکی کی رہائی سے قبل وطن واپسی کی امید دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔