.

ترکی:جیل میں قید فوجی افسروں کے لیے معافی کا امکان مسترد

کسی کوعام معافی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے،حکومت کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں:نائب وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے نائب وزیراعظم بلند آرنیچ نے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں مجرم قرار پاکر جیل جانے والے فوجی افسروں کے لیے معافی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے جمعہ کو انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی حکومت سے عام معافی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ہمارا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہیے۔

ان کا یہ بیان ترک فوج کی جانب سے سزایافتہ فوجی افسروں کے دوبارہ ٹرائل کے مطالبے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔فوج نے مبینہ طور پر پولیس اور عدلیہ پر دو مختلف کیسوں میں شواہد میں الٹ پھیر کا الزام عاید کیا ہے۔

واضح رہے کہ 2012ء اور 2013ء میں ترکی کے سابق آرمی چیف جنرل ایلکر باسبگ سمیت سیکڑوں فوجی افسروں کو وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں قصوروار قراردیا گیا تھا اور عدالتوں نے انھیں لمبی قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

فوج کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم رجب طیب ایردوان کے قریبی رفقاء اور وزراء کے بیٹوں کے خلاف ترک پراسیکیوٹرز رشوت اور بدعنوانی کے سنگین الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں۔

رشوت اور بدعنوانی کے اس بڑے اسکینڈل نے ترکی کی حکمراں اشرافیہ کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس کے منظرعام پر آنے کے بعد سے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان سے مستعفی ہونے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔اس اسکینڈل کے بعد ان کی کابینہ کے تین وزراء اور متعدد ارکان پارلیمان مستعفی ہوچکے ہیں۔