.

مراکشی وزیر اعظم کی جماعت پر پابندی کا مطالبہ

"بن کیران مرسی اور ایردوآن کے نقش قدم پر چل رہے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقا کے اہم ملک مراکش میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت "استقلال" نے اسلام پسند وزیراعظم عبدالالہ بن کیران کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ استقلال پارٹی کے جنرل سیکرٹری حمید شباط نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحریک دعوت و اصلاح کو جسٹس پارٹی سے الگ کیا جائے اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی پر پابندی لگائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ریاستی اور آئینی اداروں کو سیاسی کشمکش میں دھکیلنا چاہتی ہے لیکن وہ اس کی بھرپور مخالفت کرتے رہیں گے اور حکومت کی تمام چالوں کو ناکام بنائیں گے۔ ان کا اشارہ وزیر اعظم بن کیران کے اس بیان کی جانب تھا جس میں انہوں نے استقلال پارٹی کے اراکین پارلیمان پر بیرون ملک رقوم کی منتقلی کا الزام عائد کیا ہے۔

استقلال پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تحریک توحید واصلاح حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کا دعوتی ونگ ہے۔ وزیراعظم بن کیران ہی اس جماعت کی بھی قیادت کر رہے ہیں۔ اس لیے میرا یہ مطالبہ حق بجانب ہے کہ یا تو تحریک دعوت و اصلاح کو حکمراں جماعت سے الگ کیا جائے یا جسٹس پارٹی پر پابندی عائد کی جائے۔

حمید شباط کا کہنا تھا کہ تحریک دعوت اصلاح صرف مراکش میں نہیں بلکہ ایک عالمی تنظیم ہے جس کا مقصد ریاستی اداروں کو اپنے چنگل میں جکڑنا ہے۔ مسٹر شباط کے بہ قول قوم عبدالالہ بن کیران کے نزلہ زکام کا شکار ہے جسے فوری ویکسی نیشن [علاج] کی ضرورت ہے۔

مراکشی اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بن کیران مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی، ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن اور تیونسی لیڈر علامہ راشد الغنوشی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ یہ تمام لیڈر اپنی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ شیطانی چالیں چلتے رہے ہیں۔

مراکش کی کسی معتبر سیاسی جماعت کی جانب سے حکمراں جماعت کو تحلیل کرنے کا مطالبہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے، تاہم 2003ء میں دارالبیضا میں ہونے والے دھماکوں کے بعد پیپلز کیمونسٹ پارٹی نے تحریک دعوت اصلاح پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔