.

مفاہمتی کوششوں کے باوجود یمن میں فرقہ وارانہ کشیدگی برقرار

صعدہ میں حوثی اور سلفی مسلک سے تعلق رکھنے والے جنگجو مدمقابل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی یمن میں سلفی انتہا پسندوں اور ایران نواز شیعہ مسلک کے پیروکار حوثی قبائل کے درمیان مفاہمت کی حکومتی کوششوں کے باوجود فریقین ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار تیز کرنے لگے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صعدہ کے مرکزی شہر دماج میں حوثی عسکریت پسندوں نے سلفی باغیوں کے مختلف ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں ایک مسجد سمیت متعدد دیگرعمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ صعدہ میں کشیدگی گذشتہ اکتوبر میں ہونے والی مفاہمتی کوششوں کے بعد پہلا واقعہ ہے۔ یمنی ایوان صدر نے اکتوبر میں متحارب گروپوں کے درمیان صلح اور سیز فائر کی کوشش کی تھی جس کے بعد عارضی طور فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے تھے۔

تاہم ہفتے کی شام دماج شہر میں حوثی عسکریت پسندوں نے سلفی مخالفین کے زیر انتظام جامع مسجد دار الحدیث کے آس پاس ٹینکوں سے گولہ باری سے مسجد سمیت کئی دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

دماج میں سلفی باغیوں کے ترجمان سرور الوادعی نے ایک بیان میں بتایا کہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے مساجد اور شہریوں کے گھروں پر گولہ باری کی گئی ہے جس میں ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پچھلے چند ماہ کے دوران حوثیوں کے حملوں میں 197 افراد ہلاک اور 600 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 100 کی حالت خطرے میں ہے۔

سلفی ترجمان کا کہنا تھا کہ دماج میں فائرنگ سے شہریوں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شہر میں شیر خوار بچوں کے لیے دودھ ختم ہو گیا ہے جبکہ خوراک اور مختلف ادویہ بھی ناپید ہو چکی ہیں۔ الوادعی کے مطابق صنعا ایوان صدر کی جانب سے دماج میں امن وامان کے قیام کے لیے عبدالقادر الہلال کی سربراہی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی وہ ابھی تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

خیال رہے کہ یمنی صدر عبد ربہ منصور الھادی نے سیکرٹری دارالخلافہ عبدالقادر الہلال اور البیضاء کے گورنر میجر جنرل الطاھری الشدادی کی نگرانی میں ایک نئی کمیٹی قائم کی تھی جسے دماج میں امن وامان کے قیام اور متحارب فریقین میں مستقل جنگ بندی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ گذشتہ روز اس کمیٹی کا ضلع الصعدہ میں اجلاس ہوا جس میں سابقہ کمیٹی کے چیئرمین یحییٰ ابو اصبع نے بھی شرکت کی۔

صدر عبد ربہ نے صعدہ کے گورنر فارس مناع سے کہا ہے کہ وہ حوثی عسکریت پسندوں کو لڑائی بند کرنے اور دماج کا محاصرہ ختم کرنے مفاہمتی یاداشت پر دستخط پر مجبور کرے۔ تاہم الصعدہ کی ضلعی انتظامیہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کر سکی ہے۔