.

جرنیلوں کیخلاف مقدمہ دوبارہ چلنے کی مخالفت نہیں کرینگے: ایردوآن

ترک بار ایسوسی ایشن کے سربراہ سے مثبت ملاقات ہوئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایروآن نے کہا ہے کہ حکومت سینکڑوں سابق اور حاضر سروس سزا یافتہ فوجی افسروں کیخلاف از سر نو مقدمہ چلائے جانے کی مخالفت نہیں کرے گی۔ ان فوجی افسران پر حکومت کیخلاف سازش کرنے اور بغاوت کے جرم کے تحت 2013 میں مقمہ چلا تھا جس میں انہیں سزا سنائی گئی تھی۔

لیکن حالیہ چند ہفتوں کے دوران جب ایردوآن حکومت کے بعض اہم ذمہ داروں کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مبینہ کرپشن کیسز کے حوالے سے پراسیکیوشن کا سامنا ہے، فوج نے بھی عدالتی فیصلے کے خلاف باضابطہ طور چیف پراسیکیوٹر سے رجوع کر لیا ہے تاکہ یہ مقدمہ از سر نو چلایا جائے اور سزائیں ختم ہو سکیں۔ فوج نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے افسران کے خلاف بد نیتی کی بنیاد پر مقدمہ بنایا گیا تھا۔

فوج کے افسران کیخلاف آنے والے اس فیصلے سے طویل عرصے کے بعد ترکی میں سول حکومت کی فوج پر بالادستی کا امکان پیدا ہوا تھا جو ایک مرتبہ پھر خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔ تاہم طیب ایردوآن نے فوجی کی اس کوشش کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترک وزیر اعظم کا کہنا ہے ''ہمارے لیے اس مقدمے کے دوبارہ کھلنے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ '' ترک وزیر اعظم نے اس موقف کا اظہار ایشیائی دورے کے آغاز پر کیا ہے۔

طیب ایردوآن نے کہا ان کی ترک بار ایسوسی ایشن کے سربراہ سے بڑی مثبت ملاقات ہوئی ہے ، اس ملاقات کے دوران ان مقدمات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اسی طرح وزیر انصاف بھی اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

ایردوآن کے حامی ملک میں پیدا اس نئی صورتحال کی ذمہ داری امریکا میں طویل عرصے سے مقیم ترک سکالر فتیح اللہ گولن پر عاید کرتے ہیں کیونکہ ان کے پراسیکیوشن اور پولیس کے شعبے میں غیر معمولی اثرات موجود ہیں۔ یہی پراسیکیوشن نے فوج کی سامنے آنے والی درخواست کو دیکھ رہی ہے۔