.

تیونس:رکن اسمبلی کو موت کی دھمکی کے بعد آئین پر بحث معطل

دستورساز اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے شوروغوغا کے بعد اجلاس ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی دستور ساز اسمبلی میں ایک رکن کو دوسرے رکن کی جانب سے موت کی مبینہ دھمکی کے بعد نئے آئین پر بحث معطل کردی گئی ہے۔

دستور ساز اسمبلی میں اتوار کو بائیں بازو کے پاپولر فرنٹ کے رکن منگی راحوئی نے حکمراں جماعت النہضہ کے رکن حبیب علوز پر الزام عاید کیا کہ انھوں نے انھیں اسلام کا دشمن قراردیا ہے جس پر اسمبلی میں تنازعہ پیدا ہو گیا۔

تیونس میں ایسے الفاظ کو خالی نہیں سمجھا جاتا۔گذشتہ سال سلفی جنگجوؤں پر حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دوسیاست دانوں کے قتل کا الزام عاید کیا گیا تھا۔تیونس میں تشدد کے ان واقعات کے بعد سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا۔

اسمبلی میں راحوئی نے حبیب علوز کو مخاطب کرکے کہا کہ ''اسلام کے تحت متحد ہونے کے لیے ہمیں اور کتنا خون درکار ہوگا۔میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں ایک مسلمان ہوں۔میری ماں ،میرا باپ ،میرے دادا اور میرے تمام لوگ مسلمان تھے''۔انھوں نے مزید کہا کہ علوز نے گذشتہ روز جو یہ کہا تھا کہ میں اسلام کا دشمن ہوں،اس کے بعد سے مجھے موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

حبیب علوز کے حوالے سے ہفتے کے روز ایک ریڈیو اسٹیشن نے کہا تھا کہ منگی راحوئی مذہب کی مخالفت کے معاملے میں معروف ہیں۔اس پر انھوں نے کہا کہ ان کے الفاظ کو ریڈیو نے توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا اور انھوں نے راحوئی سے معافی مانگ لی ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1100بجے ہوا تھا لیکن بعض ارکان کے احتجاج کی وجہ سے اس کو دومرتبہ معطل کرنا پڑا جس پر نئے آئین پر مزید بحث 1400جی ایم ٹی تک معطل کردی گئی۔

تیونس کی قومی آئین ساز اسمبلی نے گذشتہ روز ہی ایسی دفعات کی منظوری دی تھی جن میں اسلام کو ریاست کا دین قراردیا گیا ہے اور ساتھ ہی اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔یہ اسمبلی سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی عوامی مزاحمتی تحریک میں رخصتی کے بعد اکتوبر 2011ء میں منعقدہ انتخابات کے نتیجےمیں معرض وجود میں آئی تھی۔

اس نے ایک سال کے عرصے میں ملک کا نیا آئین مرتب کرکے منظور کرنا تھا لیکن ملک میں پے درپے رونما ہونے والے سیاسی بحرانوں اور اسلامی جماعت النہضہ اور سیکولر حزب اختلاف کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آئین سازی کے کام میں تاخیر ہوئی ہے۔گذشتہ سال جولائی میں مشتبہ جہادیوں کے ہاتھوں حزب اختلاف کے ایک رکن پارلیمان کے قتل کے بعد سیاسی بحران سنگین ہوگیا تھا اور سیاسی تعطل کو دور کرنے کے لیے النہضہ کو اقتدار چھوڑنے پر آمادہ ہونا پڑا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں وزیراعظم علی العریض نے سبکدوش ہونے اور نگران وزیراعظم محمد جمعہ کو اقتدار سونپنے سے اتفاق کیا تھا لیکن انھوں نے اس کے لیے یہ شرط عاید کی تھی کہ پہلے اسمبلی ملک کے نئے آئین اور انتخابی قانون کی منظوری دے تاکہ اسی سال نئے عام انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوسکے۔

واضح رہے کہ دوسو سترہ ارکان پر مشتمل دستور ساز اسمبلی میں نئے آئین کی دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے دوسری صورت میں اس پر عوامی ریفرینڈم کرایا جائے گا۔اسمبلی میں النہضہ کو سادہ اکثریت حاصل ہے۔