.

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کی جنوبی سوڈان آمد

صدرسلواکیر سے گذشتہ تین ہفتوں سے جاری بحران پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی صدر عمرحسن البشیر جنوبی سوڈان میں گذشتہ تین ہفتوں سے جاری بحران کے سلسلہ میں بات چیت کے لیے سوموار کو جوبا پہنچے ہیں۔

جوبا کے ہوائی اڈے پر جنوبی سوڈان کے نائب صدر جیمز وانی ایگا نے ان کا استقبال کیا۔اس کے بعد وہ اپنے ہم منصب جنوبی سوڈان کے صدر سلواکیر سے بات چیت کے لیے صدارتی محل چلے گئے۔

انھوں نے اپنی آمد پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔تاہم سوڈانی وزارت خارجہ نے اتوار کو جنوبی سوڈان میں جاری تنازعے کے پُرامن حل اور سیاسی عمل جاری رہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

بیان میں سوڈان کی جانب سے مشرقی افریقہ کے ممالک کے بلاک کی جانب سے جنوبی سوڈان کے مختلف علاقوں میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور فریقین کے درمیان مفاہمت کے لیے کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔

جنوبی سوڈان کی سرکاری فوج اور سابق نائب صدر ریک ماشر کے وفادار قبائلی جنگجوؤں کے درمیان 15 دسمبر سے ملک کے مختلف شہروں میں لڑائی جاری ہے۔اس دوران باغیوں نے ریاست جنگلئی کے دارالحکومت بور پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔تاہم افریقی ممالک کی مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں صدر سلواکیر کے تحت سرکاری فوج اور ریک ماشر کے حامی جنگجوؤں کے درمیان عارضی جنگ بندی ہوگئی تھی۔

متحارب دستوں کے درمیان جاری لڑائی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔صدر سلواکیر اورریک ماشر دو مختلف نسلی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران الگ الگ گروپوں کی جانب سے خرطوم کی فوجوں کے خلاف لڑتے رہے تھے اور اب ان کے حامی دستے ایک دوسرے سے باہم برسرپیکار ہیں۔صدر سلواکیر نے ماشر کے حامی جنگجوؤں پر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام عاید کیا ہے۔ماشر ملک کے نائب صدر تھے لیکن انھیں جولائی میں برطرف کردیا گیا تھا۔