.

انٹرنیٹ پر غیر محرم سے "چیٹنگ" حرام ہے: علی خامنہ ای

دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر اور رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای نے سوشل میڈیا اور سماجی رابطے کے لیے استعمال ہونے والی تمام ویب سائیٹس پرغیر محرم مردو زن کے درمیان بات چیت (چیٹنگ) حرام قرار دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر محرم لوگوں سے چیٹنگ کے نتیجے میں سماجی برائیاں اور جرائم جنم لیتے ہیں، اس لیے اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر نے قدامت پسند مذہبی طبقے کے ایک وفد سے گفتگو کے دوران کہا کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی غیر محرم مرد و عورت آپس میں تحریری گفتگو "چیٹنگ" کرسکتے ہیں یا نہیں؟ تو انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ غیر محرم مرد اور عورت آپس میں چیٹنگ قطعی طور پر جائز نہیں ہے۔

خیال رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ کا یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جب تہران حکومت سماجی رابطے کی تمام ویب سائیٹ نئی پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ انسداد سماجی جرائم اور غیر قانونی انٹرنیٹ ٹریفکنگ کنٹرول کمیٹی کے سیکرٹری عبدالصمد خرم آبادی نے 29 دسمبر 2013ء کو اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ حکومت ان تمام سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کو بند کر رہی ہے، جو ایران میں لوگوں کو چیٹنگ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ مسٹر خرم آبادی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بلیک لسٹ قرار دی گئی سوشل ویب سائٹ کی ایک فہرست تیار کرلی ہے۔ اس فہرست میں "وی چیٹ"، ٹینگو، وائبر، وٹس آپ اور کوکو شامل ہیں۔

ایران میں رابطہ ٹولز پر پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی جا رہی ہے جب پہلے ہی ملک بھر میں سماجی رابطے کی بڑی ویب سائیٹ "فیس بک" اور "ٹیوٹر" کے استعمال پر پابندی ہے۔ اس پابندی کے باوجود مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر حکومتی عہدیدار فیس بک اور ٹیوٹر کا کھلے عام استعمال کر رہے ہیں۔