.

ترکی:کرپشن اسکینڈل،350 پولیس افسر برطرف یا تبدیل

پولیس افسروں کو ہٹائے جانے کے باوجود بدعنوانی کے الزام میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکومت نے انقرہ میں تعینات ساڑھے تین سو پولیس افسروں کو برطرف یا تبدیل کر دیا ہے۔ان میں اہم محکموں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

ترکی کی نجی خبررساں ایجنسی دوغان کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے آدھی رات کے وقت جاری کردہ ایک حکم نامے کے ذریعے جن پولیس سربراہاں کو برطرف یا تبدیل کیا ہے،ان میں مالیاتی جرائم ،اینٹی اسمگلنگ ،سائبر کرائم اور منظم جرائم یونٹوں کے سربراہان شامل ہیں۔انھیں اب ٹریفک کی ذمے داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

ترک حکومت نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب جاری کردہ ایک اور حکم نامے کے تحت ڈھائی سو پولیس افسروں کا ان برطرف کیے جانے والے افسروں کی جگہ تقرر کیا ہے۔وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کی جانب سے پولیس افسروں کی ان برطرفیوں کو ترکی کی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لینے والے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے اسکینڈل کی تحقیقات کو روکنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

ان برطرفیوں کے باوجود بدعنوانیوں کے الزامات میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے اورمنگل کو ملک کے مختلف شہروں سے مزید پچیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں سرکاری ریلوے کمپنی ٹی سی ڈی ڈی کے آٹھ عہدے دار بھی شامل ہیں۔

بدعنوانی کے اس بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کو رجب طیب ایردوآن کی حکومت اور امریکا میں جلاوطن بااثر ترک مسلم اسکالر فتح اللہ گولن کے حامیوں کے درمیان کشیدگی کا شاخسانہ قراردیا جارہا ہے۔وہ اگرچہ امریکا میں رہ رہے ہیں لیکن ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے پیروکار ترک حکومت ،پولیس اور عدلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

ترک وزیراعظم نے بدعنوانی کے الزام میں اپنے اتحادیوں کے خلاف تحقیقات کی مذمت کی ہے اور ان کو اپنی حکومت کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش قراردیا ہے۔تاہم انھیں اس وقت اپنے گیارہ سالہ دور حکومت میں سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

انھوں نے ''غیرملکی جماعتوں'' پر اس کرپشن اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام عاید کیا ہے جس کا مقصد ان کی حکومت کا خاتمہ ہے۔ان کے تحت وزارت داخلہ نے استنبول میں کرپشن کے الزام میں گرفتاریوں کے بعد محکمہ پولیس میں تطہیر کی ہے اور بہت سے افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے اور ان کی ذمے داریاں حکومت کے قریبی افسروں کو سونپ دی ہیں۔

پولیس نے ان کے اتحادیوں ،معروف کاروباری شخصیات اور کابینہ کے تین وزراء کے بیٹوں کو رشوت اور بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے گرفتار کیا ہے لیکن ان کے خلاف الزامات کی تفصیل منظرعام پر نہیں لائی گئی۔البتہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان الزامات کا تعلق تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے منصوبوں اور ترکی کی ایران کے ساتھ سونے کی تجارت سے ہے۔

استنبول میں آبنائے باسفورس کے نیچے زیرزمین ریل ٹنل(سرنگ) کی تعمیر کا منصوبہ بھی کرپشن کے الزامات کی زد میں آیا ہے۔اس منصوبے کے تحت استنبول کے یورپی اور ایشیائی حصوں کو ایک دوسرے سے ملایا جائے گا لیکن بدعنوانی کے الزامات منظرعام پر آنے کے بعد اس پر ترک حکومت نے کام رو ک دیا ہے۔

روزنامہ حریت کی رپورٹ کے مطابق 17 دسمبر کو کرپشن اسکینڈل منظرعام پر آنے کے بعد سے صرف انقرہ اور استنبول میں قریباً سترہ پولیس افسروں کو برطرف کیا گیا ہے یا انھیں دوسرے شعبوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ان میں سے بعض کا کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات سے براہ راست تعلق تھا لیکن ان میں سے بہت سوں کو فتح اللہ گولن کی حزیمت تحریک سے تعلق کے الزام میں برطرف کیا گیا ہے۔