.

جنیوا کانفرنس کو اسد اقتدار کے خاتمے کا ذریعہ بننا چاہیے: ایردوآن

ترک وزیراعظم تین روزہ دورے پر جاپان پہنچ گئے، شاندار استقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے شامی صدر بشارالاسد کو شام کے ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنیوا ٹو کو بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ رجب طیب ایردوآن نے ان خیالات کا اظہار جاپان کے دورے پر پہنچنے کے بعد ایک لیکچر کے دوران کیا ہے۔

طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ '' ہمیں جنیوا ٹو میں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام اقدامات ناکام نہ ہوں تاکہ بشار الاسد کے بغیر شام میں نئے دور کا آغاز ہو سکے۔ ''واضح رہے شام میں امن اور سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کیلیے جنیوا میں ہونے والی دوسری امن کانفرنس رواں ماہ میں دوسرے عشرے کے آغاز میں منعقد ہونے والی ہے۔ جبکہ شام میں تین برس سے جاری صورت حال کے نتیجے میں اب تک ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

وزیر اعظم ایردوآن کا کہنا تھا ''جس شخص نے شام میں اس قتل و غارت گری کو رواج دیا ہے اسے ملک کی سربراہی پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ''

اب تک جنیوا ٹو میں شرکت کیلیے 30 ملکوں کو دعوت مل چکی ہے۔ ان ملکوں سعودی عرب کے علاوہ اقوام متحدہ کے پانچ مستقل ارکان، ترکی، عراق، اردن وغیرہ شامل ہیں البتہ ایران کو ابھی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ جاپان کے وزیر خارجہ فمیو کیشیدا کی شرکت بھی متوقع ہے۔

دوسری جانب شام کے اپوزیش اتحاد نے جنیوا ٹو میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ابھی کرنا ہے ۔ اس بارے میں امکان ہے کہ شامی اپوزیشن اتحاد جلد اپنے فیصلے کا اعلان کر دے گا۔