.

ایران میں فلم کی عکس بندی کے دوران بم دھماکا، چھ افراد ہلاک

مرنے والوں میں تہران سیمنا سٹی کے ڈائریکٹر جنرل بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں عراق ۔ ایران جنگ کے حوالے سے ایک فلم کی عکس بندی کے دوران دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہو گئے ہیں۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز تہران اور مذہبی شہر قُم کو ملانے والی مرکزی شاہراہ "معراجیون" پر پیش آیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں "دفاع مقدس" سینما سٹی کے ڈائریکٹرجنرل علی اکبر رنجبر اور پانچ دوسرے فنکار شامل ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں اداکاروں کے زیر استعمال کئی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق دھماکہ ایک ویران علاقے میں میں فلم کی عکس بندی کرنے والے اداکاروں کے ایک گروپ سے کچھ ہی فاصلے پر ہوا۔ بارودی مواد کے پھٹنے نکلنے والے شارپنلز فلمی کارکنوں کو لگے جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے ذرائع کے مطابق یہ فلم پاسداران انقلاب کے مقرب اور اصلاح پسندوں کے مخالف سمجھے جانے والے پروڈیوسر مسعود دہ نمکی کی رہ نمائی میں تیار کی جا رہی تھی۔ مسعود نمکی ماضی میں قدامت پسند طبقات کی ترجمانی اور اصلاح پسندوں کی مخالفت میں بھی کئی فلمیں ریلیز کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں "خلیج جنگ" کی یاد میں ہر سال سیکڑوں فلمیں ریلیز اور کتب شائع کی جاتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہرسال اس نوعیت کی فلمی اور دیگر سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔