.

لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان مستعفی ہونے کو تیار

اسی یا آیندہ ہفتے ٹیکنوکریٹس اور آزاد ماہرین پر مشتمل کابینہ تشکیل دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے کہا ہے کہ نیشنل کانگریس (قومی اسمبلی) ان کی جگہ کسی اور کو وزیراعظم نامزد کردیتی ہے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علی زیدان نے کہا ہے کہ وہ اسی یا آیندہ ہفتے اپنی کابینہ میں ردوبدل کریں گے۔انھیں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جانب سے ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا ہے اور اس سے قبل ہی انھوں نے مستعفی ہونے کی پیش کش کی ہے۔

لیبی کابینہ کے ارکان نے بدھ کو وزیراعظم کو اپنی وزارتوں کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی ہے جس کے بعد علی زیدان نے کہا کہ ''ٹیکنوکریٹس اور آزاد ماہرین پر مشتمل نئی کابینہ تشکیل دی جائے گی اور یہ پارٹیوں اور سیاسی گروپوں پر مشتمل نہیں ہوگی''۔

لیبی حکومت اس وقت سابق مقتول صدر معمر قذافی کی حکومت کے خلاف 2011ء میں مسلح بغاوت میں پیش پیش جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہے اور یہ شتر بے مہار جنگجو گروپ ہر جگہ حکومت کی عمل داری کو چیلنج کررہے ہیں۔اس کے علاوہ حکومت مخالف سیاسی اور نسلی گروپ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

وزیراعظم علی زیدان کی حکومت کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج مسلح مظاہرین کے گروپ کا درپیش ہے جنھوں نے گذشتہ چھے ماہ سے لیبیا کے مشرق میں واقع اہم آئل ٹرمینلز پر قبضہ کررکھا ہے۔اس کے نتیجے میں لیبیا کی خام تیل کی برآمدات معطل ہوچکی ہیں اور اس طرح حکومت کا آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہوچکا ہے۔

مسلح گروپ مشرقی لیبیا کی خودمختاری کا مطالبہ کررہے ہیں۔انھوں نے غیرملکی کمپنیوں کو اپنے زیر قبضہ بندرگاہوں پر تیل کی فروخت کی پیش کش کی ہے لیکن لیبی وزیراعظم نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت کے کنٹرول سے باہر تیل برآمد کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ تیل لے جانے والے جہازوں کو ڈبو دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''کوئی بھی ملک یا کمپنی یا گینگ جنگجوؤں کے زیر قبضہ بندرگاہوں پر تیل لینے کے لیے ٹینکر بھیجے گا،تو ہم ایسے ٹینکروں سے نمٹیں گے اور انھیں تباہ کرنے یا سمندر میں غرق کرنے پر مجبور ہوں گے۔ہم تمام ممالک کو خبردار کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی''۔