.

پرانا بھلانے، نیا سکھانے والی 'عام آدمی پارٹی' کے دفتر پر حملہ

نئی سیاسی جماعت بھارتی سرکار کی سکیورٹی لینے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کے دعویدار بھارت کی نئی اور عام آدمی کی آشاوں کے ساتھ سامنے آنے والی پارٹی کو نئی دہلی کے ریاستی کے اقتدار میں آنے کے بعد کشمیر اور کشمیریوں کے مستقبل کے بارے میں خاموش رہنے کیلیے سخت پیغام دے دیا گیا ہے۔ اس وقعے سے بھارت کی جمہوریت کا ایک ہفتے میں دو مرتبہ چہرہ گدلا ہو گیا۔ عظیم جمہوریہ نے بنگلہ دیش میں دھاندلی سے سامنے آنے والی عوامی رائے قبول کر لی جبکہ عوامی مینڈیٹ کی حامل حقیقی رائے رد کر کے تشدد شروع کر دیا گیا۔

بھارت میں تشدد پسند ہندو جماعتوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر عملا ہولو کاسٹ کا درجہ پا گیا ہے۔ اس لیے جمہوری ملک ہونے کے باوجود کسی کو اس بارے میں سرکاری اور فوجی موقف سے ہٹ کر کچھ کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ عام آدمی پارٹی کو مجبورا سرکاری سکیورٹی نہ لینے کا فیصلہ واپس لینا پڑے گا۔

نئی نویلی عام آدمی پارٹی کے مرکزی رہنما پرشانت بھوشن نے جیسے ہی بھارت کے روایتی موقف سے ہٹ کرعام آدمیوں کی طرح کھلی بات کی اور کشمیر میں فوجی تعیناتی پر ریفرنڈم کے لیے کہا تو پہلے ہندو نواز میڈیا اور بعد ازاں پہلے سے بھری بیٹھی جماعتوں نےعام آدمی پارٹی کی قوم سلامتی کے خلاف اس 'حرکت' کو ناقابل معافی قرار دے دیا۔ انتہا پسند جماعتوں سے تعلق رکھنے والے شدت پسند سیاسی مخالفین کے ایک گروہ نے نئی دہلی کے نواح میں کوشامبی میں قائم عام آدمی پارٹی کے دفتر پر دھاوا بول دیا۔

عام آدمی پارٹی جس نے بھارت میں بہت مختصر وقت میں عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر کے روایتی اشرافیہ کی کمر توڑ دی ہے بھارت میں ہر طرح کے جبر، ناانصافی اور زیادیتوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔

ایسی ہی آواز عام پارٹی کے رہنما پشانت بھوشن نے تقریبا دو سال پہلے بھی بلند کر تے ہوئے کہا تھا ''کشمیروں کو زبردستی ساتھ نہیں رکھا جا نا چاہیے۔'' ہندو انتہا پسندوں کی جماعت رکشا دل کے ایک رہنما وشنو گپتا نے پشانت بھوشن کے ان خیالات پر ان کی بذات خود دھنائی کر دی تھی۔

اس دھنائی کی تو کسی جمہوریت پسند جماعت یا اہنسا کے حامی نے مذمت نہ کی، البتہ بھارتی میڈیا نے اپنے انداز میں نئے سرے سے پرشانت بھوشن کی خبر لینا شروع کر دی۔ اب بھی یہی ہوا ہے۔ ایک اہم بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ پرشانت بھوشن '' پرانا بھولتے ہیں، نہ نیا سیکھتے ہیں۔''

اگرچہ نئی نویلی پارٹی کے پرشانت بھوشن نے پوری بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور اس کی بولی بولنے والوں کو پرانا بھولنے اور کچھ نیا سیکھنے کا ہی مشورہ دیا ہے کہ ''کشمیروں کو زبردستی ساتھ نہیں رکھ جا سکتا، نیز کشمیر میں فوج کی تعیناتی کیلیے عوامی ریفرنڈم کرنے کی تجویز دی ہے۔''

نئی دہلی کے مضافات میں کوشامبی میں قائم عام آدمی کے دفتر پر حملے کے بعد اس نئی جماعت کو شاید اپنی نئی سوچ کو واپس لینا پڑے کہ "اس کے حکومتی عہدے داروں اور دفاتر کیلیے سرکاری سکیورٹی نہیں لی جائے گی۔'' بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ ساتھ رکشا دل کے برہم کارکن اسے بہ آسانی سکیورٹی لینے پر مجبور کر دیں گے۔

دنیا کی عظیم جمہوریہ کو جمہوریت کی اس تازہ جمہوری کارروائی یعنی ایک منتخب جماعت کے دفتر پر حملے سے محض چند روز قبل بھی اس وقت عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب بنگلہ دیش کے بدنام زمانہ انتخابات کو یکطرفہ ہونے کے باوجود تسلیم کر لیا گیا لیکن اگلے ہی امریکا نے ان انتخابات بھانڈا پھوڑتے ہوئے بالواسطہ طور پر بھارتی جمہوریت پسندی کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا۔