.

طالبان نے 10 سالہ بچی کو خودکش مشن پر بھیجنے کی تردید کردی

ہم لڑکیوں کو خودکش بم حملوں کے لیے استعمال نہیں کرتے:طالبان ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں نے ایک دس سالہ بچی کو پولیس پر خودکش حملے کے لیے بھیجنے سے انکار کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے بدھ کو ایک بیان میں اس مبینہ خودکش بم حملے کی سازش میں کسی کردار کی تردید کی ہے اور اس کو سرکاری پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم کبھی ایسا نہیں کرتے اور خاص طور پر لڑکیوں کو خودکش بم حملوں میں استعمال نہیں کرتے''۔

ایک طالبان کمانڈر نے مبینہ طور پر اپنی دس سالہ بہن کو سوموار کو زبردستی باردو سے بھری جیکٹ پہنا کر پولیس کے ایک ہیڈکوارٹرز پر حملے کے لیے روانہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کم سن بچی نے بم حملے کے بجائے خود کو صوبہ ہلمند کے ضلع خان شین میں پولیس کے حوالے کردیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے رات کی وقت بچی کی آواز سن کر اس کو پکڑا تھا اور اس کا بھائی خودکش جیکٹ سمیت فرار ہوگیا تھا۔

اس بچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میرے بھائی اور اس کے دوست نے مجھے بارود سے بھری جیکٹ پہننے پر مجبور کیا تھا لیکن جب میں نے پانی اور سردی دیکھی تو میں چلاّئی کہ شدید سردی میں پانی عبور نہیں کرسکتی تو وہ مجھے واپس گھر لے گئے اور جسم سے جیکٹ اتار دی۔میرے والد نے مجھے مارا پیٹا۔پھر آدھی رات کے وقت میں گھر سے بھاگ آئی اور علی الصباح میں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا''۔

اس نے نیوزکانفرنس میں اپنا نام سپوژمئی بتایا تھا۔اس کے بہ قول اس کے بھائی کا نام ظاہر ہے اور وہ طالبان کمانڈر ہے۔اس وقت وہ مفرور ہے اور پولیس اس کی تلاش ہے جبکہ صوبہ ہلمند کی سرحدی پولیس نے اس کے والد عبدالغفار کو گرفتار کر لیا ہے۔افغان پولیس کے بہ قول اس بچی کو خودکش حملے پر اکسانے اور مجبورکرنے والا طالبان کمانڈر بارود سے بھری جیکٹ سمیت غائب ہوگیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اس بچوں کو خودکش حملے پر اکسانے پر طالبان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بچوں کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرنا غیر اسلامی ہے اور افغان کلچر اور عقیدے کے منافی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مزاحمت کار گروپ عام طور پر بچوں کو خود کش بم حملوں کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں لیکن بچیوں کو خال خال ہی خودکش بم حملوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے سینیر محقق برائے افغانستان ہیتھر بار کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو خودکش بم حملوں کے لیے استعمال کرنے کے بہت کم کیس سامنے آئے ہیں۔ان کی تنظیم کے مطابق 2011ء میں ایک آٹھ سالہ لڑکی وسطی صوبے ارزگان میں ایک چیک پوائنٹ پر خودکش دھماکے کے دوران ماری گئی تھی۔اس کو مبینہ طور پر طالبان نے حملے کے لیے بھیجا تھا۔واضح رہے کہ افغان حکام ماضی میں طالبان پر بچوں کو سکیورٹی فورسز پر خودکش بم حملوں کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔