.

حلب میں مسلسل بمباری کی مذمت کی کوشش روس نے رکوا دی

برطانوی مسودہ 700 شہریوں کی ہلاکت پر شام کی مذمت پر مبنی تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے سکیورٹی کونسل کی طرف سے شام کے شہر حلب میں بشار الاسد رجیم کی مسلسل بمباری اور کشت وخون کے خلاف مذمتی بیان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے رکوا دیا ہے۔ شامی افواج کی جانب سے اس بمباری اور سکڈ میزائلوں کے استعمال سے اب تک سات سو سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

سلامتی کونسل میں شامی رجیم کی مذمت اور اسے بمباری سے باز کرنے کیلے یہ مسودہ برطانیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ روس کی طرف سے روکا گیا بیان قرارداد کا پیش خیمہ بن سکتا تھا۔

برطانیہ نے یہ مذمتی بیان سلامتی کونسل کے ارکان میں منگل کے روز تقسیم کیا گیا تھا تاکہ حلب میں جاری کشت وخون کی جانب توجہ مبذول کرائی جا سکے اور شہریوں پر بمباری کی ذمہ دار بشار رجیم کی مذمت کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''15 دسمبر سے تقریبا ہر روز کی جانے والی بمباری سے سات سو سے زائد شہری ہلاک اور 1300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ بمباری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر بھی مبنی ہے۔ ''

بیان کو سلامتی کونسل کے ارکان کی اتفاق رائے سے منظور کیے جانے کے بجائے اسے روس کی جانب سے سختی سے روک دیا گیا ہے۔ روس کا اصرار تھا کہ حلب میں پیدا شدہ صورتحال کے تمام حوالوں کو سامنے لایا جائے۔

عا لمی خبر رساں ادارے "اے پی" سے اقوام متحدہ کے ذمہ دار نے نام سامنے نہ لانے کی شرط پر کہا روس نے اس بیان میں ایسی ترامیم پیش کیں جس سے جس کی وجہ اس بیان کی افادیت ہی ختم ہو گئی اس لیے اس بیان کی منظوری سے حلب کی صورت حال پر بامعنی اثرات کا امکان نہ رہا تھا۔

اس بارے میں اقوام متحدہ کے ایک اور ذمہ دار نے رائٹر سے کہا ''سلامتی کونسل روسی ترامیم کی وجہ سے اتفاق پر نہیں پہنچ سکی ہے۔'' تاہم اقوام متحدہ میں روسی مشن میں موجود ترجمان نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ ایک ماہ کے دوران دوسرا موقع ہے کہ روس نے مغربی ممالک کی بشار الاسد رجیم کی مذمت پر سلامتی کونسل میں اعتراض اٹھایا ہے۔ اس سے پہلے ماہ دسمبر میں ایک امریکی کوشش کو بھی بشار رجیم کو سنگل آوٹ کرنے پر روس نے روک دیا تھا۔

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل شام میں جاری بمباری پر خاموش نہیں رہ سکتی ہے۔ ان سفارت کاروں کے مطابق برطانوی مسودے میں میں کسی کیلیے بھی حیران ہونے والی کوئی بات نہ تھی۔