.

شمالی یمن میں حوثیوں اور حاشد قبیلے کے درمیان خونریز لڑائی

کرنل ہاشم الاحمر قاتلانہ حملے میں محفوظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شمال میں ایران نواز حوثی جنگجوؤں اور علاقے کے موثر قبیلے "حاشد الاحمر" کے درمیان خونریز لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ حوثی جنگجو شمالی یمن کے مختلف علاقوں پر بندوق کےذریعے اپنا اثرو نفوذ قائم کرنا چاہتے ہیں جبکہ حاشد قبیلہ دفاعی جنگ لڑ رہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی یمن کے ضلع عمران میں گذشتہ روز متحارب گروپوں میں ہونے والی خون ریز جھڑپوں میں دونوں طرف غیرمعمولی جانی نقصان کی خبریں آئی ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی یمن کا ضلع عمران حاشد قبیلے اور ضلع "الاجاشر" دھم قبیلے کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ حوثیوں کی ان دونوں قبائل کے ساتھ جنگ چل رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متحارب گروپوں میں شمالی یمن کے مختلف پہاڑی علاقوں میں پچھلے ایک ہفتے سے خون ریز جھڑپیں جاری ہیں۔ لڑائی میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں، توپخانے راکٹوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے ضلع عمران کی وادی خیوان میں حاشد قبیلے کے سابق سردار الشیخ عبداللہ الاحمر کے فرزند کرنل ھاشم الاحمر پرقاتلانہ حملہ کیا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے شمالی یمن میں جبل البراق، البیضا اور البرکہ کے مقامات پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ حاشد قبیلے کو بعض اہم پوزیشنوں پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حوثی جنگجو ان کی متعدد چوکیوں پر قابض ہو چکے ہیں۔

یمنی حکومت نے متحارب گروپوں میں فائر بندی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاہم فی الحال کمیٹی کسی قسم کی مصالحت میں ناکام ہے۔ فریقین کا کہنا ہےکہ حکومت کی قائم کردہ کسی مفاہمتی کمیٹی نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

ادھرشمالی یمن کے ضلع الجوف میں بھی حوثی جنگجوؤں اور قبائل کے درمیان لڑائی میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں تین کا تعلق حوثی قبائل سے بتایا جاتا ہے۔