.

"سعودی عرب سے دوستانہ تعلقات کا قیام مرشد اعلیٰ کی ذمہ داری ہے"

دونوں برادر ملکوں میں تعلقات اس قدر کشیدہ کبھی نہیں ہوئے: ہاشمی رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے اعتدال پسند سابق صدر اور گارڈنین کونسل کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب سے اچھے تعلقات کے قیام کی کوششیں نہ کی گئیں تواس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے قبل ریاض۔ تہران دوستانہ تعلقات کے قیام کی سب سے بڑی ذمہ داری مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پرعائد ہوتی ہے۔

ایران کے سابق صدر نے ان خیالات کا اظہار مجلس شوریٰ کے چیئرمین علی لاریجانی کے مقرب خیال کیے جانے والے نیوز ویب پورٹل" انتخاب" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات جتنے آج خراب ہیں ماضی میں کبھی نہیں ہوئے۔

اس موقع پران سے سعودی عرب کے ممکنہ دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ "سعودی عرب عمرے کی ادائیگی کے لیے جانا معمول کی بات ہے، تاہم اگرحکومت ضرورت محسوس کرے تو میرے متوقع دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم یہ طے کر لیں کہ آیا تنازعات کے حل میں سعودی عرب کیا چاہتا ہے اور ہم کیا موقف رکھتے ہیں؟ اس ضمن میں ریاض اور تہران کو ایک دوسرے سے کیا توقعات وابستہ ہیں"۔

ڈاکٹر رفسنجانی سے پوچھا گیا کہ اگر موجودہ حساس حالات میں آپ جیسا کوئی ذمہ دار شخص سعودی عرب کے دورے پر جاتا ہے تو وہ دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کے حل کے لیے کیا کام کرے گا؟ تو انہوں نے کہا کہ "دو ملکوں کے درمیان تعلقات کا قیام صرف کسی شخصیت کے دورے سے نہیں ہوتا۔ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات دیرینہ ہیں، تاہم یہ اتنے زیادہ پیچیدہ نہیں کہ دور نہ کیے جا سکیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلی ذمہ داری سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہے، اس کے بعد حکومت اور اس کے بعد دیگر شخصیات اور ادارے دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے ذمہ داری ہیں۔

سابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ تہران اور ریاض کے مابین جامع مفاہمتی مذاکرات کا روڈ میپ وضع کرتے ہوئے یہ طے کر لینا چاہیے کہ آیا کون سی سرخ لکیریں ہیں جنہیں دونوں ملک عبور نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد یہ طے کیا جائے کہ بات چیت کے لیے سعودی عرب کون جاتا ہے اور کس کو جانا مناسب ہے۔

خیال رہے کہ علی اکبر ھاشمی رفسجانی کے سنہ 1989ء سے 1997ء تک دور صدارت کے دوران سعوی عرب اور ایران کے مابین کافی حد تک اچھے تعلقات قائم رہے ہیں۔