.

دوستان شام کا اجلاس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری

اجلاس میں 11 ممالک شریک ہیں، جنیوا ٹو بھی ایجنڈے میں شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے بحران کا حل تلاش کرنے کی غرض سے مختلف ملکوں پر مشتمل دوستان شام نامی تنظیم کا اجلاس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شروع ہو گیا ہے۔ رواں مہینے جنیوا میں ہونے والے شام بارے امن کانفرنس کے سلسلے میں اس اجلاس کا خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس میٹنگ شامی اپوزیشن کا قومی اتحاد بھی شریک ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی میزبانی میں اتوار کے روز ہونے والے دوستان شام کے اس اہم اجلاس میں 11 ممالک شریک ہیں اور یہ ممالک دوسری جنیوا امن کانفرنس کی حمایت کا اعلان بھی کریں گے۔ آج کے اجلاس میں شریک ملکوں میں میزبان فرانس کے علاوہ امریکا، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر اور اردن شامل ہیں۔ ان ملکوں کے وزرائے خارجہ شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا پر دباؤ بھی بڑھا سکتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کو قائل کریں کہ وہ 22 جنوری کے جنیوا ٹُو امن مذاکرات میں شریک ہو۔

جنیوا ٹو امن مذاکرات اِس لحاظ سے اہم ہیں کہ شام میں سن 2011 سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد اامکاناً پہلی مرتبہ بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ اپوزیشن کے نمائندے بیٹھ کر پرتشدد حالات کو ختم کرنے کی بات کر سکیں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے کہ وہ اجلاس میں شریک ہو گی یا نہیں۔ اِس لحاظ سے 17 جنوری کو شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے اجلاس میں رائے شماری کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ جنیوا ٹُو امن مذاکرات میں شریک ہوا جائے یا نہیں۔ امریکی سفارتکاروں کے مطابق جنیوا ٹُو میں ایران کی شرکت تاحال یقینی نہیں ہے۔ آج اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں شریک ممالک اِس پر بھی غور کریں گے کہ آیا شام کے حلیف ملک ایران کو جنیوا ٹُو امن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری پیرس میں ہونے والے فرینڈز آف سیریا کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ وہ آج فرانسيسی وزارت خارجہ کے دفتر ميں ہونے والے ’فرينڈز آف سيريا‘ کے اجلاس ميں شرکت کريں گے اور منقسم شامی اپوزيشن کو امن مذاکرات ميں شرکت پر رضامند کرنے کی کوشش کريں گے۔ جنیوا ٹو کانفرنس 22 جنوری سے سوئٹزرلينڈ ميں شروع ہو گی۔ امريکی وزير خارجہ پيرس کے بعد 15 جنوری کو کويت کا رخ کريں گے، جہاں وہ شام کے ليے ايک ڈونر کانفرنس ميں شرکت کريں گے۔ امریکی وزیر خارجہ پیرس میٹنگ میں شرکت کے باعث کل پیر کے روز ایریل شیرون کی تدفین کی رسومات میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔

فرانس اور امریکا نے محتاط انداز میں اِس امید کا اظہار کیا ہے کہ احمد الجربا کو قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ وہ شامی باغیوں کو امن مذاکرات میں شریک ہونے پر راضی کریں۔ ایک امریکی سفارت کار کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ملک اِس کوشش میں ہیں کہ شامی اپوزیشن جنیوا ٹُو میں شریک ہو اور وہ ایک متفقہ پلیٹ فارم سے شرکت کریں۔ دوسری جانب ایک فرانسیسی سفارت کار کا بھی کہنا ہے کہ شامی باغیوں کا جنیوا ٹُو میں شریک ہونا بہت اہم ہے کیونکہ اِس سے حالات کو بہتر کرنے کی راہ پیدا ہو سکتی ہے۔

شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے فرانس میں مقرر سفیر مُنظر ماخوس نے خیال ظاہر کیا کہ اگر قومی اتحاد شریک ہوا تو یقینی طور بات چیت آگے بڑھانے کے لیے ابتدائی شرائط کے طور پر اسد حکومت سے سویلین کے خلاف بھاری ہتھیاروں کے استعمال کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ متاثرہ افراد تک انسانی ہمدردی کے تحت امداد پہنچائی جانے کا راستہ فراہم کرنے کا بھی کہا جائے گا۔ شام میں امن قائم کرنے کی صورت گزشتہ برس سامنے آئی تھی جب اسد حکومت نے کمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے رضامندی کا اظہار کیا تھا۔