.

"ایران کی ہر حال میں جنیوا کانفرنس میں شرکت ضروری نہیں"

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات سے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے 22 جنوری سے شامی تنازعہ کے حل کیلیے ہونے والی دوسری جنیوا امن کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہ ملنے کے بعد کہا ہے کہ ایران کیلیے ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنیوا ٹو میں شرکت کرے نہ ہی ایران اس سلسلے میں دعوت نامے کا متلاشی ہے۔

اس امر کا اظہار ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے لبنان کے دورے کے موقع پر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے '' اگر ہمیں کسی پیشگی شرط کے بغیر دعوت ملی تو جنیوا ٹو میں شرکت کریں گے، لیکن ایران دعوت نامے کیلیے ہر حکم کی تعمیل نہیں کرے گا۔''

واضح رہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پچھلے ہفتے جنیوا ٹو کے سلسلے میں 30 ملکوں کو دعوت نامے بھجوائے ہیں لیکن ایران کو شرکت کیلیے مدعو نہیں کیا ہے۔ اس کے باوجود ایران بشار الاسد کا اس خطے میں سب سے بڑا اتحادی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی اور روسی وزرائے خارجہ کے درمیان بھی ایک ملاقات ہوئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ قربت کی ضرورت کا بھی اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ''ہم برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کیلیے کوشاں ہیں کیونکہ ہمارے دو طرفہ تعلقات بڑھنے سے پورے علاقے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔''

جواد ظریف نے لبنان کی طرف سے دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کیلیے کیے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم کیا۔ دو ماہ پہلے بیروت میں قائم ایرانی سفارت خانے پر کار بم دھماکہ کے نتیجے میں ایران کے ثقافتی اتاشی سمیت 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ لبنان کے سکیورٹی حکام نے اس سلسلے میں عبداللہ عزام بریگیڈ کے کمانڈر ماجدالماجد کو گرفتار بھی کیا جس کی بعد ازاں موت واقع ہو گئی۔

ایرانی وزیر خارجہ کی اس گفتگو سے یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ ایران اپنے جوہری تنازعے کے طے ہونے کے مقابلے میں بشار الاسد یا کسی دوسری ترجیح کو کم اہم سمجھنے کی طرف مائل ہے۔