.

جان کیری،لاروف کی شام میں جنگ بندی زون کے قیام کی تجویز

ایران اور سعودی عرب کو جنیوا کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے:روسی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ شام کے بعض حصوں میں جنگ بندی کے امکان اور انسانی امداد مہیا کرنے کے لیے کوریڈور کے قیام پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جان کیری نے پیرس میں سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد نیوزکانفرنس میں بتایا کہ ''ہم نے جنگ بندی کے امکان سے متعلق بات چیت کی ہے اورممکنہ طور پر شمالی شہر حلب میں یہ جنگ بندی ہوسکتی ہے''۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ جنیوا دوم کانفرنس میں ایران کو خوش آمدید کہا جائے گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شام میں بعد از بشارالاسد انتقال اقتدار سے اتفاق کرے۔اس موقع پر سرگئی لاروف نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کو 22 جنوری کو جنیوا میں ہونے والی شام کے بارے میں دوسری کانفرنس میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔

جان کیری نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ انھوں نے سرگئی لاروف کے ساتھ شام میں انسانی امداد کی رسائی کے لیےکوریڈورز کھولنے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے اور لاروف نے انھیں بتایا کہ بشارالاسد دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ تک رسائی دینے پر غور کررہے ہیں۔

درایں اثناء ادھر شام کے شمال مشرقی صوبے الرقہ سے یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ وہاں القاعدہ سے وابستہ تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے گذشتہ دوروز کے دوران اپنے مخالف بیسیوں جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے اور اپنے ہاتھ سے نکل جانے والے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

الرقہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے بتایا ہے کہ داعش نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے تل عبید،اس کے نواحی علاقے قنطری اور صوبائی دارالحکومت الرقہ میں النصرۃ محاذ اور احرارالشام کے ایک سو جنگجوؤں کو گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد انھیں فائرنگ کر کے قتل کردیا ہے۔تاہم اس رپورٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔