.

"ایران جوہری معاہدے پر 20 جنوری سے عمل ہو گا"

اندازہ ہے کہ حتمی معاہدے کی راہ میں مشکلات ہوں گی: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وائٹ ہاوس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ابتدائی جوہری معاہدے پر 20 جنوری سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ عالمی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق 24 نومبر کو جنیوا میں طے پانے والا معاہدہ اس ماہ سے موثر ہو جائے گا۔

وائٹ ہاوس سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پہلی مرتبہ یورینیم کی افزودگی روک دے گا اور اپنی بعض تنصیبات کو تباہ کر دے گا۔ صدر براک اوباما نے اس موقع پر کہا ہے کہ انہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایران کے ساتھ حتمی امن معاہدے تک پہنچنے میں کتنی مشکلات ہیں، لیکن امریکی قومی سلامتی،اور عالمی امن کیلیے ضروری ہے کہ سفارت کاری کو کامیاب ہونے کیلیے موقع دیا جائے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا ''واشنگٹن، ایران کیطرف سے معاہدے کی پابندی نہ ہونے کی صورت میں ایران کیخلاف وسیع تر اور سخت پابندیوں کا نفاذ کیا جائے گا۔'' صدر امریکا نے مزید کہا ''اب فوری طور پر ایران پر مزید پابندیاں عاید کرنا اس تنازعے کو پرامن انداز سے طے کرنے کیلیے ہماری کوششوں کو ڈی ریل کرنے کے مترادف ہو گا۔''

اسی دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ آگے بڑھنے کیلیے ایک بڑا اہم اور سنجیدہ مرحلہ ہے، انہوں نے کہا '' ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا مرحلہ بہت مشکل ہو سکتا ہے۔''

امریکا کی جانب سے یہ تصدیق اس وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کیطرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ''جوہری معاہدے پر عمل درآمد 20 جنوری سے شروع ہو گا۔'' ایرانی نائب وزیر خارجہ نے بھی اسی امر کا اظہار کیا تھا تاہم مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرائن آشٹن نے بھی اتوار کے روز اس پیش رفت کی تعریف کی ہے۔