.

یمن:حوثیوں کے ساتھ دوماہ کی لڑائی میں سلفیوں کی 210 ہلاکتیں

جنگ بندی سمجھوتے کے تحت سلفی چاردن میں دماج شہر سے نکل جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں شیعہ سلفیوں اور قدامت پرست سنی سلفیوں کے درمیان گذشتہ دوماہ سے جاری جھڑپوں میں کم سے کم دوسو دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

فریقین کے درمیان 30 اکتوبر کو اس وقت لڑائی شروع ہوئی تھی جب حوثی باغیوں نے سلفیوں پر صوبہ صعدہ کے شہر دماج میں اپنے ایک مدرسے میں ہزاروں غیر ملکیوں کو بھرتی کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان لوگوں کو حوثیوں پر حملے کے لیے یہاں لایا گیا ہے۔

دوسری جانب سلفیوں کا کہنا ہے کہ دینی مدرسے دارالحدیث غیرملکی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے داخل کیا گیا ہے۔سلفیوں کے ترجمان سرورالوادی کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں سلفیوں کی ہلاکتوں کی تعداد دوسو دس ہوگئی ہے اور چھے سو دس افراد زخمی ہیں۔دوسری جانب ان کے متحارب حوثیوں کے ترجمان علی البخیتی کا کہنا ہے کہ ان کی ہلاکتوں کے اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔

صوبہ صعدہ میں فریقین کے درمیان ہفتے کے روز سے جنگ بندی جاری ہے۔ان کے درمیان ماضی میں طے پانے والی جنگ بندیاں ناکام ہوچکی ہیں۔البتہ اس نئی جنگ بندی میں سلفیوں کی جانب سے ایک سمجھوتا بھی شامل ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ دماج سے ایک اور قصبے حدیدہ منتقل ہوجائیں گے اور غیرملکی طلبہ کو ان کے آبائی ممالک کو بھیج دیں گے۔

جنگ بندی کے اس سمجھوتے پر دستخط کرنے والے سلفی لیڈر یحییٰ الحجوری کو اپنے پیروکاروں سمیت دماج سے انخلاء کے لیے چار دن کا وقت دیا گیا ہے۔سلفی ترجمان وادی السرور نے اس سمجھوتے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حوثیوں کے ہاتھ اور مضبوط ہوجائیں گے۔

تاہم حوثیوں کے ترجمان علی البخیتی کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت حوثیوں اور سلفیوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو بھی دماج سے نکلنا ہوگا۔واضح رہے کہ صعدہ کی سرحد سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہے۔حوثی باغیوں نے گذشتہ برسوں سے یمن کی مرکزی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے۔

یمن کی موجودہ حکومت سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ملک کے جنوب مشرقی اور وسطی صوبوں میں شورش پسند قبائلیوں ،جنوب میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور شمال میں حوثی شیعہ باغیوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔