.

لیبی پارلیمنٹ کے باہر فائرنگ کے بعد ایوان کا اجلاس معطل

اجلاس میں وزیراعظم علی زیدان کو ہٹانے سے متعلق بحث چل رہی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طرابلس کی پارلیمنٹ کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ایوان کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

لیبی پارلیمنٹ کی ایک خاتون رکن نے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ جنرل نیشنل کانگریس [پارلیمنٹ] کی عمارت کے باہر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ کچھ گولیاں پارلیمنٹ کی عمارت کی بیرونی دیواروں میں بھی پوست ہوئی ہیں تاہم فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

خاتون رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعظم علی زیدان کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر بحث چل رہی تھی کہ اس دوران اچانک باہر زوردار فائرنگ کی آزیں سنائی دیں۔ فائرنگ کی آوازوں کے بعد اجلاس معطل کردیا گیا اور اراکین پارلیمان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے باہر نکلتے وقت سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں لیبی پارلیمنٹ کی رُکن نے کہا کہ کچھ لوگ پارلیمنٹ کے باہر وزیراعظم علی زیدان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔ فائرنگ میں بھی وہی ملوث ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ لیبیا کی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم علی زیدان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک ہفتہ قبل پیش کی تھی۔ پارلیمنٹ کے 72 ارکان نے اس تحریک کی حمایت کی تھی، جس کے بعد وزیر اعظم علی زیدان نے عہدہ چھوڑنے کا بھی اشارہ دیا تھا تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جب تک متبادل وزیراعظم پر ایوان کا اتفاق نہیں ہوجاتا مجھے عہدے سے ہٹانا ملکی سیاست کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔