.

نئے امریکی بجٹ میں مصر کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد

بجٹ قانون پر رائے شماری پیش آئند ایام میں ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں مصر کے لیے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے لیے بیرون ملک دیے جانے والے امدادی پیکیجز کی بھی منظوری دی ہے۔ بجٹ قانون پر کانگریس میں رائے شماری پیش آئند چند ایام میں ہوگی۔

خیال رہے کہ مصر میں تیس جولائی کو فوج کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد امریکا نے مصر کی فوجی امداد روک دی تھی۔ تاہم تازہ فیصلے سے لگ رہا ہے کہ امریکی حکومت نے "فوجی انقلاب" کی مخالفت میں جو طرز عمل اختیار کیا تھا اب اسے ترک کرنے جا رہی ہے کیونکہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم میں سول شعبے میں امداد کے علاوہ فوجی امداد بھی شامل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے لیے امریکا کی فوجی وغیر فوجی امداد کا اعلان دراصل قاہرہ کے "جمہوریت کی جانب اہم اقدامات" کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی حکومت مصر میں فوج کی نگرانی میں تیار کردہ دستور پرعوامی ریفرنڈم اور جلد از جلد پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کے اعلان پر قاہرہ کی کارکردگی سے مطمئن ہوچکی ہے۔

قبل ازیں امریکی کانگریس نے صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کو مصر کی امداد کی بحالی سے متعلق فیصلے کا اختیار سونپا تھا بشرطیکہ قاہرہ جمہوریت کی طرف پیش رفت کے واضح اور شفاف اقدامات کی یقین دہانی کے ساتھ اس کا عملی مظاہرہ بھی کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے بجٹ کی منظوری کے بعد اب اسے حتمی طور پر کانگریس کے دونوں ایوانوں سینٹ اور ایوان نمائندگان میں رائے شماری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اسی ضمن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ کانگریس میں نئے امدادی مسودے پر ووٹنگ سے مصر کے لیے فوری امداد پر کوئی اثرنہیں پڑے گا۔ کانگریس کی جانب سے امداد منظور ہونے کے بعد بھی ہم دیکھیں گے کیا قاہرہ حکومت کانگریس کی شرائط پر پوری اتر رہی ہے یا نہیں؟

خیال رہے کہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مصرمیں فوجی انقلاب کے بعد قاہرہ کی ہرقسم کی امداد بند کیے جانے کے مطالبات بھی کیےجاتے رہے ہیں۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی حکومت نے مصرکے لیے امدادی بجٹ کچھ ایسی قیود و شرائط کے تحت مختص کیا ہے کہ کانگریس کا کوئی رکن اس کی مخالفت نہیں کرسکے گا۔