.

مقتول لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کیس کا جمعرات سے ٹرائل

حزب اللہ کے چار ارکان پران کی عدم موجودگی میں ہیگ میں مقدمہ چلے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی خودکش بم دھماکے میں ہلاکت کے الزام میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے چار کارکنان کے خلاف جمعرات سے ہیگ کے نزدیک ان کی عدم موجودگی میں اقوام متحدہ کے قائم کردہ خصوصی ٹرائبیونل میں مقدمے کی سماعت شروع ہورہی ہے۔


واضح رہے کہ رفیق حریری قتل کیس کی سماعت 25 مارچ 2013ء کو شروع ہونا تھی لیکن شواہد کی فراہمی میں تاخیر اور لبنانی حکومت کی جانب چار مشتبہ ملزموں کی عدم گرفتاری کی وجہ سے اس کو ملتوی کردیا گیا تھا۔

جولائی 2011ء میں اقوام متحدہ کے خصوصی ٹرائبیونل برائے لبنان (ایس ٹی ایل) کے پراسیکیوٹر نے حزب اللہ کے چار ارکان کے خلاف نو الزامات میں فرد جرم جاری کی تھی لیکن شیعہ عسکری تنظیم نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے جن کارکنان کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی ہے ،انھیں ہیگ میں قائم ٹرائبیونل کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

ٹرائبیونل نے جون 2012ء میں حزب اللہ کے ان چار مشتبہ ارکان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے لیکن بعد میں لبنانی حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ان میں سے کسی کا بھی سراغ لگانے میں ناکام رہے تھے۔حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے چاروں ملزموں کے نام سلیم عیاش ،مصطفیٰ بدرالدین،حسین انیسی اور اسد صابرہ ہیں۔

اس ٹرائبیونل کے چیف پراسیکیوٹر نورمن فیرل نے اپنی فرد جرم میں کہا ہے کہ بدرالدین اور عیاش ویلنٹائن کے روز خودکش بم حملے سے قبل رفیق حریری کی نگرانی کرتے رہے تھے جبکہ انیسی اور صابرہ نے تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کے لیے بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔

اڑتالیس سالہ سلیم عیاش اور پچاس سالہ مصطفیٰ بدرالدین کے خلاف دھماکا خیز مواد کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائی انجام دینے پر پانچ الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی جبکہ اڑتیس سالہ حسین انیسی اور پینتیس سالہ اسد صابرہ پردہشت گردی کی کارروائی کے لیے معاونت اور منصوبہ بندی کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ ایک پانچویں مشتبہ ملزم اڑتالیس سالہ حسن حبیب مرحی کو گذشتہ سال اس کیس میں ماخوذ کیا گیا تھا اور اب ان کا کیس بھی اس ٹرائل کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے۔

یادرہے کہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری فروری 2005ء مِیں دارالحکومت بیروت میں کاربم دھماکے جاں بحق ہوگئے تھے۔اس واقعے میں بائیس اور افراد بھی مارے گئے تھے۔لبنان کی طاقتور شیعہ تنظیم حزب اللہ کےارکان پر سابق وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن حزب اللہ متعدد مرتبہ اس واقعہ میں ملوث ہونےکی تردید کرچکی ہے۔

اس واقعے کے بعد پان عرب سیٹلائٹ چینل الجزیرہ کے بیروت میں واقع دفتر میں ایک ویڈیو پہنچائی گئی تھی۔اس میں ایک شخص نے ایک فرضی انتہا پسند گروپ ''عظیم تر شام میں فاتح اور جہاد'' کی جانب سے غلط طور پر خودکش بمبار ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔حزب اللہ کے چاروں ارکان کو ان کے موبائل فونز کے بم دھماکے سے قبل اور مابعد ریکارڈز کی بنا پر ماخوذ کیا گیا تھا۔

حزب اللہ اقوام متحدہ کے ٹرائبیونل پر امریکی اور اسرائیلی آلہ کار ہونے کا الزام عاید کرچکی ہےاوریہ کہہ چکی ہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاراسرائیل کواس سے متعلق معلومات فراہم کرتے رہے ہیں اوراس نےحزب اللہ کےارکان کو واقعے میں ماخوذ کرنے کے لیے ان معلومات کو استعمال کیا ہے۔تاہم اقوام متحدہ کے ٹرائبیونل کےترجمان اس الزام کی تردید کرچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مئی 2007ء میں لبنان کے مقتول وزیراعظم کے قتل کے واقعہ کی تحقیقات اورٹرائل کے لیے یہ خصوصی ٹرائبیونل قائم کیاتھا۔اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے پہلےشام کے بعض سنئیراورشامی نواز لبنانی عہدے داروں کو رفیق حریری قتل کیس میں ملوث قراردیا تھا لیکن 2009ء میں چار شامی نواز لبنانی جنرلوں کوکسی فرد جرم کے بغیررہا کردیا گیا تھا۔ٹرائبیونل نےتحقیقات کے بعد یہ قراردیا تھا کہ ان کے خلاف واقعے میں ملوث ہونے کےکوئی ثبوت نہیں ملے تھے۔

ایس ٹی ایل بین الاقوامی انصاف میں ایک منفرد عدالت ہے۔اس کو دہشت گردی کے حملے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن یہ خصوصی ٹرائبیونل ملزموں کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں بھی مقدمہ چلا سکتا ہے۔