.

ایران خلیجی ماہرین کو"بوشہر" ایٹمی پلانٹ کا معائنہ کرانے کے لیے تیار

اقدام کا مقصد جوہری پلانٹ کے پرامن ہونے کی یقین دہانی کرانا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے چیئرمین علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ ان کا ملک پڑوسی ملکوں کے معائنہ کاروں کو"بوشہر" ایٹمی پلانٹ کے معائنے کی اجازت دینے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیج عرب کے شمالی کنارے پر واقع اس ایمٹی پلانٹ کے بارے میں خلیجی اور دوسرے پڑوسی ملکوں کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے اور یہ یقین دہانی کرائی جائے گی کہ جوہری پلانٹ سے کسی ملک کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق مسٹر صالحی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں کے جوہری ماہرین کو"بوشہر" ایٹمی پلانٹ کے معائنے اور پلانٹ کے تکنیکی اور سائنسی معاملات پر مشاورت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کو بوشہرا یٹمی پلانٹ کے بارے میں کوئی شبہ ہے تو ہم اس بات کی مکمل ضمانت فراہم کریں گے کہ اس سے کسی ملک کو خطرہ نہیں ہے۔

جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ"میری تجویز یہ ہے کہ پڑوسی ملکوں کی جانب سے ہمارے جوہری پروگرام کے بارے میں جو تحفظات سامنے آ رہے ہیں، ان شکوک اور تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم قائم کی جائے جو سائنسی انداز میں تمام شکوک کا ازالہ کرے۔ بعد ازاں اس تنظیم کا دائرہ علاقائی جوہری تعاون کی تنظیم کی شکل میں مزید پھیلایا جا سکتا ہے لیکن اس میں حکومتوں کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ "بوشہر" ایٹمی پلانٹ ایران کا سب سے بڑا جوہری توانائی کا مرکز ہے جسے عالمی جوہری توانائی ایجنسی"آئی اے ای اے" کے اصولوں اور قواعدو ضوابط کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اس ایٹمی پلانٹ کی تیاری میں ایران کے علاوہ روسی ماہرین بھی مدد فراہم کی ہے"۔

خیال ہے کہ خلیج عرب کے کنارے پر واقع ہونے کے باعث خلیجی ممالک کے لیے "بوشہر" ایٹمی پلانٹ ماضی میں بھی باعث تشویش رہا ہے۔ خلیجی ملکوں کو تشویش ہے کہ ایٹمی پلانٹ سے نکلنے والی تابکاری سمندر کے جنوبی کنارے میں آباد ممالک کی انسانی، حیوانی اور نباتاتی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

علی اکبر صالحی نے بتایا کہ عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کار آئندہ ایران کا دورہ کریں گے جو جنیوا اجلاس سے قبل ایک مرتبہ تہران کے تمام جوہری پلانٹ کا جائزہ لیں گے۔