.

سعودی عرب:4 فرانسیسیوں کا قتل،القاعدہ کے دو ارکان کو سزائے موت

12 ملزموں کو جرم میں معاونت پر 3 سے 23 سال تک قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک عدالت نے القاعدہ کے دو مشتبہ ارکان کو چارفرانسیسی تارکین وطن کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔

عدالت نے ان دونوں مجرموں کو 2007ء میں مدینہ منورہ کے نزدیک چارفرانسیسوں کے قتل کے مقدمے میں قصوروار قراردیا ہے۔فرانسیسی شہری ریاض میں مقیم تھے اور وہ صحرانوردی (سیر) کے لیے گئے تھے۔انھیں واپسی پر قتل کردیا گیا تھا۔

عدالت نے فرانسیسیوں پر حملے میں معاونت پر بارہ اور ملزموں کو قصوروار قرار دے کر تین سے تئیس سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں اور ان پر ان کی قید کے عرصے کے دوران بیرون ملک جانے پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق بدھ کو فیصلہ سنائے جانے کے وقت مجرمان عدالت میں موجود تھے۔ان کے خلاف مقدمے کی سماعت دسمبر 2011ء سے جاری تھی۔مقتول فرانسیسی شہریوں کے لواحقین اور فرانسیسی سفارت خانے کا قونصلر عملہ بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھا۔

دومقتول ایک الیکٹرک کمپنی میں کام کرتے تھے۔ایک ریاض میں فرانسیسی اسکول میں ٹیچر تھا اور چوتھا مقتول کم سن تھا۔واضح رہے کہ پولیس نے فرانسیسی شہریوں پر حملے کے ماسٹر مائنڈ سعودی شہری ولید الردادی کو اپریل 2007ء میں مدینہ منورہ میں ایک کارروائی کے دوران قتل کردیا تھا۔

سعودی عرب نے القاعدہ سے وابستہ ملکی اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے 2011ء میں خصوصی عدالتیں قائم کی تھیں۔القاعدہ سے وابستہ مشتبہ جنگجوؤں نے 2003ء کے بعد سعودی عرب میں متعدد بم دھماکے اور غیرملکیوں پر بم حملے کیے تھے۔

اس کے بعد سعودی سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کیا تھا۔اس دوران گرفتاریوں سے بچنے کے لیے بہت سے سعودی جنگجو پڑوسی ملک یمن بھاگ گئے تھے جہاں انھوں نے ''جزیرہ نما عرب میں القاعدہ'' کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کر لی تھی۔اس کو اب امریکا سب سے خطرناک جنگجو گروپ خیال کرتا ہے۔