.

"پاکستان کی امداد شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کی جائے"

امریکی کانگریس میں بجٹ پر بحث کے دوران مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں بجٹ پر بحث کے دوران ایک مرتبہ پھر پاکستان میں قید امریکی ''ہیرو'' کا درجہ پانے والے سزا یافتہ پاکستانی شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

اس سے پہلے آخری مرتبہ یہ مطالبہ پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ امریکہ کے موقع پر کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ نے محض چند ماہ قبل اٹھایا تھا۔ لیکن تاحال اس بارے میں عملی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔

بجٹ کے مسودے میں سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان نے ابھی تک امریکی ہیرو شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے تین کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی رقم اس وقت تک روک لی جائے جب تک شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مسودے پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کا اتفاق ہے۔

واضح رہے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاستان کے سکیورٹی سے متعلق اداروں نے اس دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کامیاب امریکی آپریشن کے تقریبا تین ہفتے بعد گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ اس کے دہشت گردوں اور غیر ملکی حساس اداروں کے ساتھ روابط ہیں۔

اس سلسلے میں اسے سزا بھی سنائی جا چکی ہے جووہ آجکل بھگت رہا ہے۔ پچھلے سال کے اواخر میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کیخلاف ایک خاتون نے بھی مقدمہ درج کرایا ہے کہ اس ڈاکٹر کے غلط علاج کی وجہ سے اس کے بیٹے کی ہلاکت ہوگئی تھی۔

تاہم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن یا کسی دوسری پروفیشنل باڈی نے ڈاکٹر شکیل آفریدی پر عاید کیے گئے الزامات کا جائزہ نہیں لیا ہے۔ اگرچہ بعض ڈاکٹر حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر کے روپ میں بچوں کو قطرے پلانے کے نام پر جاسوسی کرنا پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی ہے۔

امریکی کانگریس میں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکا کیلیے ہیروآنہ کردار ادا کرنے والے شکیل آفریدی پر عاید کیے گئے تمام الزامات واپس لیے جائیں۔ خیال رہے دہشت گردوں سے تعلق یا کسی غیر ملکی حساس ادارے کے ساتھ انفرادی سطح پر تعاون کرنا قانون کی نظر میں جرم اور بعض صورتوں میں غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

امریکی کانگریس نے پاکستان کو امداد دینےکیلیے ایک شرط یہ بھی عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ان امریکیوں کیلے ویزے کی شرط ختم کرے جو پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ذمہ داریاں ادا کرنے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے امریکی اہلکاروں کیلیے ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے تین پاکستانی نوجوانوں کی ہلاکت اور ایبٹ اباد میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد مشکلات پیدا ہوگئی تھیں۔

امریکا ان مشکلات کا خاتمہ چاہتا ہے جس کا کانگریس کی شرائط کی صورت اظہار ہوا ہے۔ تاہم ابھی پاکستان نے ان امور پر کسی تازہ ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ حکومت پاکستان کو ان دنوں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف صوبہ خیر پختونخوا میں سخت ردعمل کا سامنا ہے۔