.

یمن: القاعدہ جنگجوؤں کے حملوں میں 10 فوجی ہلاک

فوج کی جوابی کارروائی میں بعض حملہ آور بھی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وسطی صوبے البائدہ میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے تین مختلف مقامات پر بیک وقت حملوں میں دس فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

ایک فوجی عہدے دار کے مطابق القاعدہ کے حملہ آوروں نے جمعرات کو بائدہ کے علاقے رضا میں فوج کی تین جگہوں پر بیک وقت حملے کیے ہیں۔ان میں دس فوجی مارے گئے اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ بعض حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیا ہے۔ان میں سے ایک نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی۔

القاعدہ کے مبینہ جنگجوؤں نے یہ حملہ علاقے میں مسلح افراد اور فوج کے درمیان جھڑپوں کے بعد کیا ہے۔واضح رہے کہ رضا میں دسمبر سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔تب امریکا کے بغیر پائلٹ جاسوس طیارے نے ایک برات کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس ڈرون حملے کے ردعمل میں مقامی یمنیوں نے امریکا کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا اور اپنے علاقے میں ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن یمنی حکومت نے ان کے مطالبے کو ماننے کے بجائے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ڈرون حملے میں القاعدہ کے ایک لیڈر کی کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

حالیہ مہینوں کے دوران جزیرہ نما عرب میں القاعدہ پر یمنی فوجیوں اور سرکاری عہدے داروں پر حملوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔القاعدہ کے جنگجو یمنی سکیورٹی فورسز کو بم دھماکوں کے علاوہ فائرنگ میں نشانہ بنا رہے ہیں۔تاہم اس جنگجو گروپ نے کم ہی ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

البتہ اس نے 5دسمبر کو دارالحکومت صنعا میں وزارت دفاع کے زیر اہتمام ایک فوجی اسپتال کی ذمے داری قبول کی تھی اور شہریوں کی ہلاکتوں پر معاف مانگی تھی۔اس حملے میں چھپن افراد ہلاک ہوگئے تھے۔القاعدہ نے ان مہلوکین کا خون بہا دینے اور زخمیوں کے علاج معالجے کی بھی پیش کش کی تھی۔