.

دوسری جنیوا کانفرنس، شامی اپوزیشن کو ویٹو کا حق ہو گا: جان کیری

بشار الاسد رجیم نے دوسری امن کانفرنس شرکت کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے پر جنیوا میں ہونے والی دوسری امن کانفرنس میں شامی اپوزیشن کو عبوری قیادت کے لیے پیش کیے گئے ناموں کو ویٹو کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ انہوں نے یہ بات اسیسے موقع پر کہی ہے جب شامی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد آج یہ فیصلہ کرے والا ہے کہ آیا جنیوا ٹو میں شرکت کرنا ہے یا نہیں؟

امریکا نے اس موقع پر زور دیا ہے کہ شامی اپوزیشن اتحاد مثبت فیصلہ کرے۔ جان کیری نے ''العربیہ'' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ''شام کے لوگوں کو اپنے ملک کے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا موقع ملنا چاہیے، اس لیے جنیوا ٹو میں ان کی آواز ضرور سنی جانا چاہیے۔ ''

واضح رہے دوسری جنیوا امن کانفرنس کا انعقا د 22 جنوری کو ہونے والا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون پہلے ہی اس سلسلے میں متوقع شرکاء کو دعوت نامے جاری کر چکے ہیں۔

جان کیری نے کہا ''امن کانفرنس کا انعقاد شام کے اپوزیشن اتحاد کیلیے بہترین موقع ہو گا کہ وہ اپنے اہداف حاصل کر سکیں، یہ کانفرنس ایک حرف آغاز ہے اختتام نہیں۔''

اس امن کانفرنس کا بنیادی مقصد شام میں ایک عبوری حکومتی بندوبست کرنا ہے، تاکہ ملک میں تین سال میں ایک لاکھ تیس ہزار شریوں کی جان لینے کا باعث بننے والی خانہ جنگی کا خاتمہ ہو سکے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ''عبوری حکومت کے کیلیے جو بھی نام فائنل ہو گا وہ شامی اپوزیشن اور بشار رجیم دونوں کے اتفاق رائے سے ہی کیا جائے گا، اس لیے کوئی ایسا شخص جس پر دونوں طرف سے اتفاق نہیں ہوگا وہ عبوری حکومت میں قابل قبول نہیں ہو گا۔''

دوسری جانب بشار الاسد کی حکومت نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں اپنی جنیوا ٹو میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔