.

پراگ میں فلسطینی ایمبیسی سے دھماکے کے بعد اسلحہ ملا تھا:پولیس

فلسطینی سفارت خانے کے ترجمان کا دھماکا خیز مواد سے متعلق اظہار لاعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمہوریہ چیک کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کو فلسطینی سفارت خانے میں یکم جنوری کو ہوئے بم دھماکے کی تحقیقات کے دوران دھماکا خیز مواد اور کچھ اسلحہ ملا تھا۔

پراگ پولیس کے ترجمان طمس حولان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا:''میں یہ تصدیق کرسکتاہوں کہ دھماکا خیز مواد کی کچھ مقدار برآمد ہوئی تھی،پولیس کے ماہرین اب اس کا جائزہ لے رہے ہیں''۔

دوسری جانب فلسطینی سفارت خانے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ انھیں اس دھماکا خیز مواد کے برآمد ہونے کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔قبل ازیں پولیس نے سفارت خانے کی عمارت سے تلاشی کے دوران بارہ دستی بندوقیں اور آتشیں رائفلیں برآمد ہونے کی اطلاع دی تھی۔

جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں متعین فلسطینی سفیر جمال الجمال یکم جنوری کو اپنے اپارٹمنٹ میں دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔پراگ پولیس کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ دھماکا کسی حملے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خطرناک مواد کے ساتھ بے احتیاطی سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں ہوا تھا۔فلسطینی حکومت نے اس واقعے پر جمہوریہ چیک سے معذرت کی ہے لیکن اس کے بعد سے ان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پولیس کے ہاتھ لگنے والا آتشیں اسلحہ تیس سال قبل کمیونسٹ چیکو سلواکیہ کے دور میں حکام کی جانب سے دیا گیا تھا۔اس وقت پراگ کے تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کے ساتھ اچھے تعلقات استوار تھے۔تب چیکو سلواکیہ پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کی میزبانی کرتا رہا تھا اور اس نے فلسطینی مزاحمت کاروں کو تربیت بھی دی تھی۔

واضح رہے کہ میزبان ممالک کی جانب سے سفارت خانوں اور سفارت کاروں کی قیام گاہوں کی کم ہی تلاشی لی جاتی ہے لیکن چیک پولیس یہ کام کرگزری ہے۔اس نے فلسطینی مشن اور سفیر کی قیام گاہ کی تلاشی لی ہے کیونکہ اس عمارت کو سرکاری طور پر سفارت خانہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔