.

ترکی میں محکمانہ تطہیر تیز: بنک، ٹیلی کام انڈسٹری بھی زد میں

سرکاری ٹی وی سے بھی کئی افراد کی چھٹی، نئے قوانین کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں سرکاری اداروں، بنکوں اور ٹیلی کام ریگو لیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیت میں چلنے والے ٹی وی میں تطہیر کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے ۔ ان ادراوں میں درجنوں ذمہ داروں اور افسران کو ان کے مناصب سے الگ کر دیا گیا ہے۔

یہ مہم وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے سامنے والی اس کرپشن کے بعد شروع کی ہے جس کی وجہ سے ان کی حکومت کو سخت دھچکا لگا ہے۔ ترک حکومت اس سے پہلے بھی سینکڑوں پولیس افسروں، درجنوں پراسیکیوٹرز، اور سرکاری ٹی وی کیلیے کام کرنے والے متعدد افراد کو نوکریوں سے برخاست کر چکی ہے۔

گیارہ سال سے قائم ایردوآن حکومت کو یہ سخت فیصلے اس چیلنج کے بعد کرنا پڑے جو کرپشن کے حالیہ الزامات کے باعث سامنے آیا ہے اور کابینہ کے کئی ارکان کے علاوہ پارلیمنٹ کے ممبران کو بھی مستعفی ہونا پڑا۔

وزراء نے استعفے سرکاری بنک اور بعض دیگر سرکاری منصوبوں میں کرپشن کے الزامات لگائے جانے کے بعد دیے تھے۔ وزیر اعظم نے کابینہ کے تین مستعفی ہونے والے وزراء کے بیٹوں اور بعض اہم سرکاری ذمہ داروں کیخلاف تحقیقات کو عدالتی بغاوت کا نام دیا ہے۔

تازہ صفائی کے دوران بنکنگ واچ ڈاگ کے نائب سربراہ بی ڈی ڈی سمیت درجنوں دوسرے افسروں کو ان کی ذمہ داری سے برخاست کیا گیا ہے۔ ٹیلی کام نظامت کے پانچ مختلف شعبوں کے سربراہوں، الیکٹرک سرویلینس اور ٹیلی کام ریگولیٹری سے وابستہ کئی حکام کو بھی گھر بھیج دیا گیا ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں حکومت نے تطہیری عمل کے سلسلے میں 20 اعلی پراسکیوٹرز کو نئی ذمہ داریاں دی ہیں۔ جبکہ اعلی عدالتوں کے ججوں کے بورڈ کے اختیارات پر اثر انداز ہونے کیلیے حکومت نے ایک نیا بل بھی پارلیمنٹ میں لانے کی تیاری کی ہے۔ واضح رہے یہ بورڈ ججوں اور پراسیکیوٹرز کی تقرریاں کرتا ہے۔

رجب طیب ایردوآن جنہوں نے ملک کو اقتصادی شعبے میں مستحکم کیا ہے اور کروڑوں شہریوں کو غربت سے نکالا ہے اب بھی ترکی کے مقبول ترین رہنما ہیں۔

طیب ایردوآن اور ان کی جماعت نے سیکولر فوج کے اثرات سے ملک کو نکالنے کیلیے بھی ایک طویل سیاسی جنگ لڑی ہے۔ اب پولیس ، عدلیہ اور فتیح اللہ گولن کے پیروکاروں کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعے نے ان کے دشمنوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔