.

کرپشن اسکینڈل کی خبریں نشر کرنا ترکی میں'گناہ' بن گیا

خلاف ورزی کرنے والے متعدد نیوز چینل آف آئر کر دیئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن ایک طرف عرب ملکوں میں 'عوامی بیداری' کی حمایت اور تائید میں رطب اللسان ہیں جبکہ دوسری جانب اپنے ہی ملک میں آزادی صحافت کا گلہ گھوٹنے کے در پے نظر آتے ہیں۔ ترکی میں ریڈیو اور ٹی وی کی نگرانی کرنے والے ادارے نے حزب اختلاف کی جماعت پیپلز ریپبلیکنز کے بقول ملکی تاریخ کے سب سے بڑے 'کرپشن اسکینڈل' کی بھرپور کوریج کرنے والے سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز کے خلاف انضباطی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ یاد رہے کہ ترکی میں میڈیا ریگولیٹری باڈی کے اکثر ارکان کا تعلق ایردوآن کی اپنی حکمران جماعت سے ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میگا کرپشن اسکینڈل کی کوریج کرنے والے آزاد میڈیا کے خلاف ترکی کی حکمران جماعت پہلے وارننگ کا اسلوب اپناتی ہے، پھر چوبیس گھنٹے کے لئے حکومت مخالف نشریات پیش کرنے والے سیٹلائیٹ چینل کو آف ائر کیا جاتا ہے۔ اب تک حکومت ماضی قریب میں ایردوآن کے موالی اور دوست نامور عالم دین فتح اللہ گولن کے ہمخیال ٹی وی چینلز جیم، سامان، زقاق، خبر ترک، خلق اور اولووصال کی نشریات آف ائر کرنے کے احکامات صادر کر چکی ہے۔

ادھر امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کی طرز کے نیوز چینل "این ٹی وی" پر شدید حکومتی دباو ہے۔ چینل کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے پروگرامات میں حکومت مخالف سیاستدانوں کے تبصرے شامل نہ کریں۔ ترک میڈیا ریگولیٹری باڈی نے تمام ٹی وی چینلز کو خبردار کیا ہے کہ وہ 'جوتوں کے خالی ڈبوں' کی تصاویر بھی نشر نہ کریں کیونکہ ایسی تصاویر ایردوآن کے حامیوں کے گھروں سے بڑی تعداد میں چھپائے گئی رقوم کی برآمدگی کا استعارہ بن چکی ہیں۔