.

یمن: بندوق برداروں کے حملے میں ایرانی سفارتکار ہلاک

مفرور حملہ آور سفارتکار کو اغوا کرنا چاہتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں مسلح بندوق برداروں نے ایرانی سفیر کی رہائش گاہ کے نزدیک حملہ کر کے ایک سفارتکار علی اصغر اسدی کو ہلاک کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز یہ کارروائی سفارت کار کو اغوا کرنے کیلیے کی گئی لیکن ایرانی سفارتکار کی مزاحمت پر اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

ایرانی سفارتکار کو فوری طور پر زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع نے موت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کے وقت ایرانی سفیر گاڑی میں موجود نہ تھے۔ ذرائع کے مطابق سفارتکار کو قریب سے گولیاں لگنے کی وجہ سے فوری موت واقع ہو گئی جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس واقعے کی کسی گروہ نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے مشرق وسطی میں شیعہ اکثریت کے ملک ایران کے سفارتکاروں کو گاہے گاہے نشانہ بنایا جاتا رہتا ہے۔ اس واقعے سے پہلے شمالی یمن میں پچھلے ماہ کے دوران کم از کم 210 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرقہ وارانہ تصادم کی یہ لہر ماہ اکتوبر میں حوثی باغیوں کے سلفیوں کے ساتھ تصادم سے شروع ہوئی تھی۔ تاہم حوثیوں اور سلفیوں کے درمیان تین ماہ سے زیادہ عرصہ جاری رہنے والی یہ لہر ایک ہفتہ پہلے ایک معاہدے کے نتیجے میں رک گئی ہے۔

سکیورٹی حکام نے ایرانی سفارت خانے کی گاڑی پر ہونے والے اس حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سفارتکاروں کی حفاظت کیلیے کیے گئے انتظامات کو مزید بہتر کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے ڈھائی ماہ قبل بیروت میں بھی ایک ایرانی سفارتکار کار بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مارے جانے والے سفارتکار کو "شہید" قرار دیا ہے