.

یمنی قبائل القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے خلاف جنگ پر متفق

قبائل کی شمولیت سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردی کے شکار ملک یمن کے قبائل نے القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیم 'انصار الشریعہ' جیسے تمام گروپوں کے خلاف متحد ہو کر جنگ لڑنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یمنی قبائل کا القاعدہ کے خلاف متحدہ جنگی محاذ کئی سال کی خانہ جنگی کے بعد پہلی کوشش ہے۔ ماضی میں یمنی قبائل القاعدہ کے خلاف جنگ میں الگ الگ آراء رکھتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی قبائل کا ایک بڑا جرگہ [اجلاس] وسطی شہر البیضاء میں ہوا۔ اجلاس میں شورش زدہ جنوبی یمن کے سات اہم اضلاع سے تعلق رکھنے والے قبائلی زعماء نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قبائل مل کر جنوبی شہر رداع اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیں گے تاکہ امریکا کی جانب سے ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی بند ہو کیونکہ القاعدہ کے خلاف امریکی ڈرون حملوں میں بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں۔ ڈرون حملوں کی روک تھام کا بہترطریقہ یہی ہے کہ قبائل خود ہی علاقے سے القاعدہ کا صفایا کریں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس ضلع رداع اور جنوبی یمن کے دیگر سات اضلاع امریکی ڈرون حملوں سے بری طرح متاثر رہے ہیں۔ گذشتہ 12 دسمبر کو جنوبی یمن میں امریکی ڈرون طیارے نے ایک بارات پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 16 شہری جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے تھے۔

جنوبی یمن کے قبائل کے درمیان ہوئے معاہدے کی رو سے سات میں سے جس ضلع میں القاعدہ کی موجودگی کے بارے میں پتہ چلا تمام قبائل اس کےخلاف مل کر جنگ لڑیں گے مگر دہشت گردوں کی سرکوبی اور 'جہادی' عناصر کی روک تھام کی بنیادی ذمہ داری وہاں کے مقامی قبیلے کے ذمہ ہو گی۔ ہر ضلع کے قبائل القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے مراکز ختم کرانے، حکومتی رٹ قائم کرنے اور امن وامان کے قیام کے بنیادی ذمہ دار ہوں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں فوج قبائل کا اور قبائلی فوج کا ساتھ دیں گے۔

یمنی دانشور اور سیاسی امور کے ماہر کامل الشرعبی نے قبائلی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ پورے ملک کے قبائل کا فیصلہ نہیں ہے مگر وسطی علاقوں کے جن قبائل نےالقاعدہ کےخلاف جنگ میں صف بندی کا اعلان کیا ہے وہاں القاعدہ کو ٹھکانے بنانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ کامل الشرعبی نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے البیضاء اور رداع اضلاع کے قبائل کی طرح پورے ملک کے قبائل کے درمیان معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔