.

یورپی یونین اورامریکا نے ایران پرعاید پابندیوں میں نرمی کردی

ایرانی جوہری تنصیبات میں یورینیم کی افزودگی معطل ہونے کی تصدیق کے بعد اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین اور امریکا نے ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔مغربی طاقتوں نے یہ فیصلہ ایران کی جانب سے نومبر میں جنیوا میں طے پائے عبوری معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق کے بعد کیا ہے۔

بعض مغربی سفارت کاروں کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے ایران پر عاید بعض پابندیوں کے خاتمے سے متعلق فیصلہ سوموار کی رات نافذ العمل ہوگیا ہے اور اس کے تحت ایران کی پیٹرو کیمیکلز اور سونے سمیت قیمتی دھاتوں کی تجارت اور تیل بردار بحری جہازوں کے لیے انشورنس پر عاید پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ان کے علاوہ بعض دوسری پابندیوں کو بھی ہٹایا گیا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے پائے مشترکہ لائحہ عمل پر آج (سوموار) سے عمل درآمد کا آغاز ہوگیا ہے جس کے بعد کونسل نے ایران کے خلاف عاید مختلف پابندیوں کو چھے ماہ کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے''۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے برسلز میں منعقدہ اپنے ماہانہ اجلاس میں ایران کے خلاف عاید پابندیوں کو معطل کرنے سے اتفاق کیا ہے اور یہ اقدام اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کی جانب سے یہ یقین دہانی موصول ہونے کے بعد کیا گیا ہے کہ ایران نے عبوری معاہدے کے تحت اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

یورپی یونین کے فیصلے کے تحت جن پابندیوں میں نرمی یا ان کا خاتمہ کیا گیا ہے،ان میں 2012ء میں ایران کے خام تیل کو لے جانے والے بحری جہازوں کی انشورنش اور ٹرانسپورٹنگ پر عاید پابندی سب سے نمایاں ہے۔اس اقدام کی وجہ سے ایران کی خام تیل کی برآمدات نصف سے بھی کم ہوکر رہ گئی تھیں۔

درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی ایران پر عاید پابندیوں میں نرمی کی منظوری دے دی ہے اور اس کو توثیق کے لیے کانگریس کو بھیج دیا ہے۔امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کو چھے ماہ کی عبوری مدت کے لیے ہٹانے کے اقدام سے قبل ایران نے نطنز میں واقع اپنے جوہری پاور پلانٹ میں یورینیم کو اعلیٰ سطح تک افزودہ کرنے کا کام معطل کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ ایران کا نومبر میں جنیوا میں عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت ایران آیندہ چھے ماہ کے دوران افزودہ یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح تک لائے گا اور اپنی بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کردے گا۔

سمجھوتے کے تحت جوہری ری ایکٹر پر کام کرے گا اور نہ اس ری ایکٹر کی جگہ پر ایندھن یا بھاری پن کو منتقل کرے گا۔ایران نے عالمی طاقتوں سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ نئی سینیٹری فیوجز مشینیں نصب نہیں کرے گا۔اس کے بدلے میں اس پر عاید پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔اس سمجھوتے کے بعد سے ایران کو قریباً سات ارب ڈالرز تک ریلیف ملا ہے ۔